‘برآمدات میں اضافے کیلئے حکومت جلد ٹیکسٹائل پالیسی پر غور کر رہی ہے’

74

لاہور: وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مسابقتی بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور انڈسٹری کی برآمداتی صلاحیت میں اضافے کیلئے کوشاں ہے۔

معاونِ خصوصی نے آل پاکستان ٹیکسٹائل مینوفیکچررز ایسوسی (اپٹما) پنجاب کا دورہ کیا جہاں انہیں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ندیم بابر نے کہا کہ گیس انفرسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کے مسئلے پر ان کی اپٹما قیادت کے ساتھ ملاقات بہت تعمیری رہی، حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے دائرے کار میں رہتے ہوئے انڈسٹری کیلئے زیادہ سے زیادہ ریلیف کو یقینی بنائے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

مالی سال 2020: ابتدائی دو ماہ میں برآمدات میں 4.25 فیصد، درآمدات میں 5.85 فیصد کمی

فرٹیلائزر، ٹیکسٹائل سیکٹرز کی گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی ادائیگی کیلئے مدت میں اضافہ کی درخواست

ندیم بابر نے کہا کہ انڈسٹری ایک مستحکم ٹیکسٹائل پالیسی کی منتظر ہے اور حکومت بھی ٹیکسٹائل سیکٹر کی ترقی کیلئے یہ پالیسی جلد لانے کے لیے پُرعزم ہے جس سے ملک میں روزگار، زرِمبادلہ اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سردیوں کے دوران ٹیکسٹال انڈسٹری کو گیس سپلائی یقینی بنائے گی، معاونِ خصوصی نے عادل بشیر کو بلا مقابلہ اپٹما کا مرکزی چئیرمین منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کہا کہ وہ اپنی بہترین قابلیت سے انڈسٹری کی خدمت کریں گے۔

اس سے قبل سیکرٹری جنرل اپٹما محمد رضا باقر نے باضابطہ طور پر اپٹما کے الیکشنز نتائج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عادل بشیر بلا مقابلہ اپٹما کے مرکزی چئیرمین منتخب ہوئے ہیں جبکہ زاہد مظہر اور حامد زمان بلا مقابلہ سینئر وائس چئیرمین اور وائس چئیرمین اپٹما منتخب ہوئے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے عادل بشیر نے کہا کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی مسلسل خدمت کریں گے جیسے وہ گزشتہ دو سال سے چئیرمین اپٹما پنجاب کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری حکومت کی بہترین برآمداتی پالیسیوں کی وجہ سے مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے، ستمبر کے دوران برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیس استعمال کرنے والی صنعتوں سے کیپٹو ٹیرف پر جی آئی ڈی سی لاگو نہیں کیا جانا چاہیے چونکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری نے جی آئی ڈی سی پر اکتفا نہیں کیا ، اس لیے ٹیکسٹائل سیکٹر سے جی آئی ڈی سی کی مد میں بقایاجات کی وصولی نہیں کی جانی چاہیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here