فرٹیلائزر، ٹیکسٹائل سیکٹرز کی گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی ادائیگی کیلئے مدت میں اضافہ کی درخواست

گیس سیس کا معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حل کیا جائے گا، مشیر خزانہ، دو الگ الگ ذیلی گروپ قائم کرنے کی ہدایت

136

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کا معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق حل کیا جائے گا تاہم حکومت کورونا وائرس کی وباء کے بعد کی صورتحال میں صنعتوں کو معاونت فراہم کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو فرٹیلائزر کی صنعت اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) سے متعلق امور پر دو الگ الگ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر اور وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزارت خزانہ، پیٹرولیم ڈویژن اور ایف بی آر کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں معاونت فراہم کی۔

فرٹیلائزرز مینوفیکچرنک ایسوسی ایشن آف پاکستان کی مشاورتی کونسل کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان اور آل پاکستان ٹیکسٹائل ملزایسوسی ایشن کے چئیرمین ڈاکٹر امان اللہ نے گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کی ادائیگی کیلئے مدت میں اضافہ کی درخواست کی تاکہ دونوں صنعتوں کی لیکویڈیٹی (کیش) کی صورتحال بہتر ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیے: 

سپریم کورٹ، گیس سیس کیس کا فیصلہ سنا دیا ، کمپنیوں کو417 ارب روپے ادائیگی کا حکم

‘جی آئی ڈی سی چھوٹ کا مقصد کسی انفرادی شخصیت کو فائدہ پہنچانا نہیں‘

کمپنیاں گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس دو سال میں ادا کر سکتی ہیں: پٹرولیم ڈویژن

 وزیراعظم کے مشیر نے اس بات پر زور دیا کہ جی آئی ڈی سی کے ضمن میں عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر عمل کیا جائے گا۔ معاون خصوصی ندیم بابر اور وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے  دونوں اجلاسوں کے شرکاء کو بریفنگ دی۔

 تفصیلی گفت وشنید کے بعد مشیرخزانہ نے فیصلہ کیا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق حل کیا جائے گا تاہم حکومت کورونا وائرس کی وبا کے بعد کی صورتحال میں صنعتوں کو معاونت فراہم کرے گی۔

انہوں نے جی آئی ڈی سی کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کرنے کے ضمن میں دو تین قابل عمل آپشن دینے کیلے دو الگ الگ ذیلی گروپ قائم کرنے کی ہدایت کی۔ پہلے گروپ میں کھاد سازی کی صنعت، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے نمائندے اور وزیراعظم کے مشیر پیٹرولیم شامل ہوں گے۔

دوسرا گروپ اپٹما، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے نمائندوں، مشیرپیٹرولیم، مشیر تجارت اور وفاقی وزیر صنعت و پیداوار پر مشتمل ہو گا۔ وزیر صنعت و پیداوار دونوں ذیلی گروپوں کی سربراہی کریں گے اور آئندہ اجلاس میں سفارشات پیش کریں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here