فولاد پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی سے مشکلات کا شکار مقامی صنعت کو خطرات، حکومت مراعات دے: ایف پی سی سی آئی

مقامی صنعت کو ٹیکس چھوٹ دی جائے تاکہ یہ ترقی کرے، سٹیل کی مصنوعات کی قیمت کم ہونے سے تعمیرات سستی ہو جائیں گی، قیصر خان داﺅد زئی

96

اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر قیصر خان داﺅد زئی نے سٹیل کی غیرملکی صنعت کی بجائے مقامی صنعت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فولاد کی درامد پر عائد محاصل میں کمی سے مشکلات کا شکار مقامی صنعت مزید خطرات سے دوچار ہو جائے گی۔

ہفتہ کو سٹیل پروڈیوسرز کے وفد سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ غیرملکی صنعت کی بجائے مقامی صنعت کو ٹیکس چھوٹ دی جائے تاکہ یہ ترقی کرے، سٹیل کی مصنوعات کی قیمت کم ہونے سے تعمیرات سستی ہو جائیں گی اور وزیر اعظم کے تعمیراتی پیکج پر عمل درامد میں آسانی ہو گی۔

قیصر خان داﺅدزئی نے کہا کہ پاکستان میں سٹیل کا فی کس استعمال 43 کلو گرام ہے جو بہت کم اور ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے، اس کے مقابلہ میں بھارت میں سٹیل کا استعمال 62 کلو گرام، جنوبی کوریا میں 1123 کلوگرام جبکہ عالمی اوسط 214 کلو گرام ہے۔ حکومت اس اہم صنعت کی ترقی کے لئے مراعات کا اعلان کرے۔

انہوں نے کہا کہ فولاد برآمد کرنے والے 10 بڑے ممالک میں چین، بھارت، جاپان، امریکہ، جنوبی کوریا، روس، جرمنی، ترکی، برازیل اور ایران شامل ہیں۔ ان تمام ممالک میں کاروباری لاگت پاکستان سے بہت کم ہے جبکہ پاکستان میں اس صنعت کو مسائل درپیش ہے اس لئے ان سے مسابقت مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کمپنیوں سے مقابلہ سے قبل مقامی انڈسٹری کے لئے ڈھانچہ جاتی اصلاحات ، مسابقت کی بہتر فضا ، ٹیرف کے معاملات کے حل، کاروباری لاگت میں کمی، توانائی کی قیمت اور ٹیکس کم نہ کئے گئے تو صنعت کو نقصان پہنچے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here