پاکستان کی ترقی کیلئے سائنس، ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی: وزیراعظم

بدعنوان عناصر سے وصول کی گئی رقم تعلیم پر خرچ کرنے کے لئے قانون سازی کریں گے، عمران خان کا ہری پور میں پاک آسٹریا فیکوچ شول انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کی افتتاحی تقریب سے خطاب

225

ہری پور: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی  ترقی کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھنا ہو گا کیونکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جمعرات کو ہری پور میں پاک آسٹریا فیکوچ شول انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم میں ہر شعبے میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہے ہمیں اپنی سوچ بہتر کرنا ہو گی، اپنے ذہنوں کو آزاد کرتے ہوئے ترقی کا راستہ اپنانا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی ترقی کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے بڑھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فیس بک، ٹویٹر جیسی بڑی کمپنیوں کے بجٹ ہمارے سالانہ بجٹ سے اربوں ڈالر زیادہ ہوتے ہیں، ہمیں سائنس، ٹیکنالوجی اور نالج اکانومی پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔ اس سے ملکی ترقی کی راہ ہموار ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں رشکئی خصوصی اقتصادی زون کا افتتاح کر دیا گیا ہے، خصوصی اقتصادی زونز سے ملکی معیشت کو فروغ ملے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں، انسانی وسائل کی ترقی کے لئے تعیم ہر خرچ کرنا ہو گا، اقتدار میں آنے کے پہلے سال معیشت کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کی۔ دوسرے سال کورونا وائرس کی وبا کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث تعلیمی شعبہ پر زیادہ توجہ نہیں دے سکے۔ ایسٹ ریکوری یونٹ کے ذریعے بدعنوان عناصر سے وصول کی گئی رقم تعلیم پر خرچ کرنے کے لئے قانون سازی کریں گے۔

عمران خان نے نے کہا کہ چین نے پاکستان میں پانچ اور آسٹریا نے تین یونیورسٹیاں قائم کی ہیں، خیبرپختونخوا حکومت نے پاک آسٹریا فیکوچ شول انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام کے لئے بھرپور تعاون کیا اور مشکل صورتحال کے باوجود فنڈز فراہم کیے۔

انہوں نے کہا کہ وقت ثابت کرے گا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے سب سے بہترین کام کیا، اس یونیورسٹی کے قیام پر تعاون کرنے پر چین اور آسٹریا کاشکر گزار ہوں۔ اس سے مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here