رشکئی اقتصادی زون ملک میں صنعتکاری کے فروغ کی راہ ہموار کرے گا: سرمایہ کاری بورڈ

78

اسلام آباد: سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) نے کہا ہے کہ رشکئی سپیشل اکانومک زون (ایس ای زیڈ) پاکستان میں جدید انڈسٹیلائزیشن کی راہ ہموار کرنے کے علاوہ ملک میں بھاری غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) لائے گا۔

حکومتی خبررساں ایجنسی اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے بی او آئی کی سیکرٹری فریحہ مظہر نے بتایا کہ پاکستان اور چین حال ہی میں سی پیک کے تحت ملک میں کاروبار میں آسانی لانے کے لیے رشکئی اکانومک زون کے ترقیاتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “اس سنگِ میل کے ذریعے حکومت سرمایہ کاروں کو سازگار کاروباری ماحول فراہم کرے گی تاکہ ملک میں غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری لائی جاسکے”۔

یہ بھی پڑھیے:

’رشکئی سپیشل اکنامک زون سے روزگار کے 50 ہزار مواقع پیدا ہوں گے‘

پاک، چین سوموار کو سی پیک کے پہلے خصوصی معاشی زون کے معاہدے پر دستخط کریں گے

فریحہ نے کہا کہ نوشہرہ میں رشکئی ایس ای زیڈ کے علاوہ حکومت نے دھابیجی (ٹھٹہ)، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی (فیصل آباد) اور نیشنل یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ڈویلپمنٹ کی منظوری دی تھی۔

سیکرٹری نے کہا جیسا کہ یہ رشکئی زون وسائل سے مالا مال وسطی ایشیائی ریاستوں کے قریب ہے اور یہ خطے میں معاشی اعتبار سے ترقی میں اہم کردار ادا کر سکنے کی وجہ سے ایک سٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان تمام خصوصی معاشی زونز سے خطے میں دُور رس سماجی و معاشی اثرات مرتب ہوں گے، یہ زونز مزید سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ، روزگار کے مواقع پیدا اور برآمدات کی ترقی کی شرح میں اضافے کو یقینی بنائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں فریحہ نے کہا کہ ہٹر (Hattar) بھی بی او آئی کی اولین ترجیح ہے، توانائی کے مسائل نے مذکورہ معاشی زون کو مکمل ہونے سے روکے رکھا لیکن اب یہ معاملہ حل کیا جا چکا ہے۔

سیکرٹری بی او آئی نے کہا کہ دونوں دوست ممالک کے درمیان یہ معاہدہ ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ملک میں نئے خصوصی معاشی زونز کے قیام کے روڈ میپ فراہم کرے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here