کابینہ اجلاس: اینٹی ملیریئل ڈرگز، حفاظتی لباس برآمد کرنے، زندگی بچانے والی 250 ادویات کی ریٹیل پرائسنگ کی منظوری

پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے حلف اٹھانے کی مدت مقرر کرنے کیلئے الیکشن ایکٹ میں ترمیم، مزید 22 پائلٹوں کے لائسنس منسوخ، مختلف عہدوں پر تقرریوں کی منظوری

53

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے متنخب اراکین کے حلف کےلئے 60 سے 90 دن کی مدت مقرر کرنے کے لئے الیکٹورل ایکٹ میں ترامیم، مزید 22 پائلٹس کے لائسنس منسوخ کرنے، اینٹی ملیریئل ڈرگز اور حفاظتی طبی لباس برآمد کرنے، انفلوئنزا اور کینسر سمیت زندگی بچانے والی مختلف 250 ادویات کی ریٹیل پرائسنگ کی منظوری دے دی۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ کو مشکوک لائسنسوں کے حامل پائلٹس کے خلاف جاری کارروائی میں پیش رفت کی رپورٹ پیش کی گئی، کابینہ نے مزید 22 پائلٹوں کے لائسنس منسوخ کرنے کی منظوری دے دی ہے، اس کے علاوہ سول ایوی ایشن کی جانب سے 32 پائلٹوں کے لائسنس آئندہ 12 ماہ کیلئے معطل کئے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل 28 پائلٹوں کے لائسنس منسوخ کئے جا چکے ہیں، کابینہ کو بتایا گیا کہ ان لائسنسوں کی منسوخی کے ساتھ ایسے پائلٹوں اور ان کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے سول ایوی ایشن کے اہلکاروں کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے کارروائی جاری ہے۔

کابینہ نے نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کی ذمہ داریاں عارضی طور پر سیکرٹری ماحولیاتی تبدیلی کو دینے کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ساتھ کابینہ نے وزارت منصوبہ بندی، وزارت خزانہ اور ماحولیاتی تبدیلی کو ہدایت کی کہ نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ کے استعمال کو مزید بہتر بنانے کے حوالہ سے تجاویز پیش کی جائیں۔

کابینہ نے ایئر کموڈور فیصل ایاز صدیقی اور ایئر کموڈور محمد عدنان صدیقی کو پاکستان ایئرو ناٹیکل کمپلیکس بورڈ کامرہ میں بطور ممبر کمرشل اور ممبر ٹیکنیکل تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

کابینہ نے سول سروسز اکیڈمی کو خود مختار ادارہ بنانے کے حوالہ سے مجوزہ”سول سروسز اکیڈمی بل 2020ء“ کی منظوری دے دی، کابینہ نے ممبر مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی خالی آسامی کو پر کرنے کی بھی ہدایت کر دی۔

وفاقی کابینہ نے ایڈیشنل سیکریٹری وزارتِ صنعت و پیداوار ڈاکٹر حامد عتیق سرور کو چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل فرٹیلائزر کارپوریشن کی ذمہ داریاں سونپنے کی منظوری دے دی، چونکہ اس ادارے کی نجکاری کی جا رہی ہے لہٰذا اس مدت کے دوران چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کی ذمہ داریاں ایڈیشنل سیکرٹری وزارت صنعت و پیداوار کو تفویض کی جا رہی ہیں۔

کابینہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رجب علی کو جج سپیشل کورٹ (سنٹرل) پشاور تعینات کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / جج بینکنگ کورٹ۔1 فیصل آباد محمد وسیم اختر کو جج سپیشل کورٹ (سنٹرلIII) لاہور تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔ اسی طرح  ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ غضنفر علی خان کو جج سپیشل کورٹ (سنٹرل) راولپنڈی تعینات کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی کابینہ نے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں ارکان کے حلف اٹھانے کی مدت مقرر کرنے کے حوالے سے الیکشن قوانین میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی۔

وفاقی دارالحکومت میں ماڈل جیل کے قیام کے معاملہ میں کابینہ نے گرین ایریاز پر جیل کی دیوار اور عمارت کی تعمیر پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مذکورہ تعمیرات منہدم کرکے گرین ایریا کو بحال کیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ گرین ایریاز پر تجاوزات کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 2 ستمبر 2020ء کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق بھی کی۔ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارہ جات کے 24 جون 2020ء اور 31 اگست 2020ء کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔

دوران اجلاس وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ حالیہ بارشوں کے نتیجہ میں متاثر ہونے والے مستحق خاندانوں کو احساس پروگرام کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے۔

کابینہ نے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیش ٹیکنالوجی کے شعبہ میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن اور چین کی منسٹری آف انڈسٹری اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے درمیان میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (باہمی مفاہمت کی یادداشت) کی منظوری دے دی۔

کابینہ نے اینٹی ملیریئل ڈرگ (Anti-Malarial Drugs) اور حفاظتی لباس (Tyvek Suits) کی برآمدات کی منظوری دے دی، کابینہ نے اجلاس میں250 ادویات جن میں ہپیاٹائٹس، انفلوئنزا، کینسر وغیرہ جیسے امراض کی ادویات شامل ہیں، کی ریٹیل پرائس کی منظوری دے دی۔

وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے بعد 25 لاکھ بچے دوبارہ سکولوں میں جانے لگے ہیں، والدین اور اساتذہ سے اپیل ہے کہ وہ ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں، معاشی سرگرمیوں کے بعد تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here