روزویلیٹ ہوٹل سے متعلق فیصلہ سازی میں ایوی ایشن ڈویژن کی عدم شمولیت پر وفاقی کابینہ برہم

پی آئی اے انویسٹمنٹس لمیٹڈ کا انتظام ایوی ایشن ڈویژن کے پاس ہے لہذا ہوٹل کی قسمت سے متعلق کوئی بھی فیصلہ اس کی مشاورت کے بغیر نہ کیا جائے : ای سی سی

226

 وفاقی کابینہ کا ایوی ایشن ڈویژن سے مشاورت کے بغیر نیویارک میں واقع پی آئی اے کا روز ویلیٹ ہوٹل مستقل طور پر بند کرنے کی تجویز دیے جانے پر برہمی کا اظہار۔

معاملے سے آگاہ پرافٹ کے ذرائع کا بتانا تھا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں روزویلیٹ ہوٹل کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ سازی میں ایوی ایشن ڈویژن کو شامل نہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی گئی کہ ایوی ایشن ڈویژن کو ہوٹل سے متعلق فیصلہ سازی میں شریک کیا جائے۔

کابینہ نے تمام سٹیک ہولڈرز کو روز ویلیٹ ہوٹل کے مستقبل کے حوالے سے سفارشات ای سی سی کے سامنے پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اس موقع پر کابینہ نے پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چئیرمین کی سربراہی میں کام کرنے والی کمیٹی جس میں سیکرٹری فنانس ، ایوی ایشن ڈویژن اور قانون شامل ہیں کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کا بھی جائزہ لیا تاکہ معاملے کے قانونی اور مالیاتی پہلوؤں پر جامع انداز میں غور کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے:

پی آئی اے کے ملکیتی روزویلٹ ہوٹل سے متعلق فیصلے قومی مفاد میں کئے جائیں گے: مشیر خزانہ

 ٹرمپ نیویارک میں واقع پی آئی اے کا روز ویلیٹ ہوٹل خریدنا چاہتے ہیں 

اس کمیٹی نے اپنی سفارشات میں ہوٹل کو مستقل طور پر بند کرنے، یونین کے ساتھ مذاکرات کرنے اور اس سال کے آخر تک اخراجات پورے کرنے کے لیے ستمبر تک پچاس کروڑ ڈالر جاری کرنے کی بات کی۔

کمیٹی نے یونین اور ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 13.7 ملین ڈالر، پنشن فنڈ کے لیے 18 ملین ڈالر، قرض خواہوں کے لیے 3.4 ملین ڈالر اور ہوٹل کی بندش کے لیے دو ملین ڈالر اور ان تمام چیزوں کے لیے مجموعی طور پر 142 ملین ڈالر جاری کرنے کی سفارش بھی کی۔

اس کے علاوہ کمیٹی نے حکومت پاکستان کی جانب سے ہوٹل کو لیز پر دینے یا جوائنٹ وینچر کی صورت چلانے تک اس کے اخراجات کے لیے تیرہ ملین ڈالر جاری کرنے کی سفارش بھی کی۔

اس موقع پر کابینہ ڈویژن کے ایڈیشنل سیکرٹری نے نشاندہی کی کہ اوپر بیان کیا گیا سارا معاملہ ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے رولزآف بزنس 1973 کے رول 18 (۱) اور  (4) 23 کے تحت پیش کیا جانا چاہیے کیونکہ پی آئی اے انویسٹمنٹس لمیٹڈ کا انتظام اس کے پاس ہے۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے معاملے کے حوالے سے سفارشات پر غور کیا اور کہا کہ اس حوالے سے ایوی ایشن ڈویژن کے ساتھ مشاورت نہیں کی گئی جو کہ کی جانی چاہیے تھی۔

مزید برآں ای سی سی  نے معاملے کو شفاف انداز اور بہترین قومی مفاد میں حل کرنے کی تاکید بھی کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here