پانچ سال بعد بھی کے پی حکومت ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے مطلوبہ فوائد حاصل کرنے میں ناکام

170

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت کے 17 میگاواٹ رونالیہ ہائیڈروپاور پروجیکٹ پر 3.2 ارب روپے کی لاگت آچکی ہے، تاہم اس کے باوجود صوبائی حکومت ابھی تک مطلوبہ فوائد حاصل کرنے میں ناکام ہے، مذکورہ منصوبہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے بمشکل ہی 3 میگاواٹ بجلی پیدا کر سکا ہے۔

نومبر 2011 میں رانولیہ منصوبے کے تعمیراتی کام کا آغاز ہوا جو مقررہ وقت سے ایک سال کی تاخیر سے نومبر 2015 میں ختم ہوا تھا۔

پہلے دو سے ڈھائی سال کے بعد منصوبے پر تعمیراتی کام مکمل کر لیا گیا تھا لیکن واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نیشنل گرڈسٹین میں بجلی ترسیل کرنے کے لیے ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں توانائی پیدا کرنے والی مشینیں ابھی تک بےکار پڑی رہیں، جس وقت ملک کو شدید بجلی کے بحران کا سامنا تھا اس دوران رونالیہ منصوبہ توانائی کا ایک یونٹ بھی پیدا نہ کرسکا۔

مئی 2017 میں ٹرانسمیشن لائن بچھا کر بجلی کی ترسیلی سہولت نیشنل گرڈ سٹین کو دے دی گئی لیکن کے پی حکومت کے ساتھ معاہدہ مکمل نہ ہو پایا جس وجہ سے بجلی کی پیداوار کا عمل اکتوبر 2019 تک شروع نہ ہو سکا۔ تاہم، چھ ماہ بعد انجنئیروں نے منصوبے کی ساخت میں خرابی کی نشاندہی کی اور پھر سے بجلی کی پیدوار روک دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے:

کے الیکٹرک کی قسمت کا فیصلہ جلد متوقع

واپڈا کے پن بجلی گھروں کی پیداوار ملکی تاریخ میں پہلی بار ساڑھے 8 ہزار میگاواٹ کی حد عبور کر گئی

خیبرپختونخوا میں پہلا ڈیجیٹل سٹی کتنے ہزار ملازمتیں دے سکے گا؟

ذرائع کے مطابق، توانائی کی ترسیلی لائن کو رونالیہ سے علئی کھوور، خان کھوور اور دابر کھوور میں واپڈا کے منصوبوں سے منسلک کردیا گیا۔ رونالیہ سے بجلی کی ترسیل منقطع ہوئی تو دیگر تینوں منصوبوں کی بھی ترسیل رک گئی۔ اپریل میں واپڈا نے بجلی کا ترسیلی نظام منقطع کر کے رونالیہ سے پانی کا رخ فاربے کی طرف موڑا، جب پانی چھوٹے ڈیم سے چھوڑا گیا تو یہ سارے گاؤں میں پھیل گیا۔

پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پی ای ڈی او) کے ذرائع کے مطابق ڈیم سے پانی کا نکلنا حقیقت میں ایک خراب بناوٹ کا مسئلہ ہے اور اسکو ٹھیک کرنے کی ذمہ داری منصوبے کے ٹھیکدار کی ہے۔ اسی طرح، ڈیم کے قریب گزرنے والی سڑک مقامی لوگوں کی جانب سے بند کر دی گئی۔ اپریل میں سیلاب کے بحران کو حل کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو 50 ملین روپے جاری کیے گئے لیکن مقامی رہائشیوں سے اب تک زمین نہیں خریدی جا سکی۔

افسران نے مزید بتایا کہ جولائی اور اگست میں رونالیہ پر مکمل لوڈ ٹیسٹ کیا گیا لیکن یہ 17 میگاواٹ کے اندازے کی بجائے بمشکل ہی 3 میگاواٹ بجلی ہی پیدا کر سکا۔

پی ای ڈی او افسران کے مطابق منصوبے کا تعمیراتی کام مکمل کر لیا گیا ہے، تاہم، جب تک یہ منصوبہ 17 میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کرتا یہ ٹھیکہ برقرار رہے گا۔ حکام نے مزید کہا کہ مئی اور اگست سے پانی کے بہاؤ کی حد اونچی ہونے کا امکان ہے۔ دوسری طرف، منصوبے کے ٹھیکے دار نے 800 ملین روپے مزید لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی لیے معاملہ تنازعہ حل کرنے والی کمیٹی کو بھیجا گیا ہے، جو اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here