کے الیکٹرک کی قسمت کا فیصلہ جلد متوقع

321

کراچی: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت کے الیکٹرک (کے ای) کی نجکاری کرنے یا اسے وفاقی حکومت کے زیرِانتظام لانے کے بارے میں جلد فیصلہ کرے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی میں لوڈشیدنگ کی صورتحال پر بات چیت کے لیے کے الیکٹرک کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور خدشات کے بارے میں بھی اظہارِ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں کے الیکٹرک حکومت کے زیرِانتظام نہیں ہے۔ تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کے الیکٹرک کا لائسنس تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ بھی توانائی کے مسائل پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل الیکٹرک  پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے پاس کے الیکٹرک کے ٹیرف میں اضافے کے اختیارات ہیں تاہم ملک بھر کی طرح کراچی میں بجلی کی قیمت برقرار رہے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

1100 ارب کا ”ٹرانسفارمیشن پلان“کراچی کے عوام کی زندگیاں بدل دے گا: اسد عمر

کے الیکٹرک نے سکوک کی پیشکش سے 25 ارب روپے حاصل کرلیے

کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے وفاق، سندھ اور فوج ایک پیج پر، 1100 ارب کے پیکج کا اعلان

کراچی میں نکاسی آب کے مسائل پر بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ نکاسی آب کے نظام پر تجاوزات کی وجہ سے مون سون کے دوران مسائل پیدا ہوئے۔ اس وقت کراچی کو سیاست کی نہیں بلکہ صرف کام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کے ملک میں باہمی روابط نہ ہونے سے بے شمار مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بعد معاشی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک بیان میں اسد عمر نے کہا کہ جس طرح تمام ریاستی عناصر کورونا وائرس کے خلاف ایک پیج پر اکٹھے ہوئے یہی سوچ کراچی کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا نے کورونا کے خلاف پاکستان کی کامیابی کا اعتراف کیا اور اب سب سے بڑے شہر کی بحالی کا منصوبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان نے جیت کا سفر شروع کر دیا ہے۔

اسدعمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملکی تاریخ میں کراچی کے لیے سب سے بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا ہے، شہر قائد میں ترقیاتی کام پر عملدرآمد مرکزی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی طاقت کراچی کے شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر کرنے کے حوالے سے شروع کیے گئے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ نہ ڈالے، جلد سندھ کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے ترقیاتی مصوبوں کا آغاز کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here