خیبر پختونخوا: دستکاری کی صنعت سے وابستہ خواتین کی جانب سے آن لائن کاروبار کے رجحان میں اضافہ

564

پشاور: خیبرپختونخوا کی خواتین دستکاروں کو نیشنل انکیوبیشن سینٹر (این آئی سی) کی جانب سے تربیت دی جا رہی ہے، یہ خواتین اپنی مصنوعات مارکیٹ میں فروخت کرنے کی بجائے آن لائن فروخت کر سکتی ہیں اور ای کامرس کے ذریعے بہتر روزگار حاصل کر سکتی ہیں۔ 

نیشنل انکیوبیشن سینٹر (این آئی سی) کی رکن اور ڈیجیٹل انٹرپرنیور ثناء تحسین درانی کے مطابق خیبر پختونخوا میں خواتین سلائی اور کڑھائی کی مختلف مصنوعات تیار کرتی ہیں، اگر خواتین ان مصنوعات کی مارکیٹ کر کے انہیں آن لائن فروخت کریں تو یہ ان کے لیے ایک بڑا نادر موقع ہے، این آئی سی ان خواتین کو بہترین مواقع دینے کی امید اور ان کے آن لائن کاروباروں کو چلانے کے لیے تربیت دے رہا ہے۔

ثناء تحسین درانی نے بتایا ہے کہ ہم صوبے میں 2014ء سے حکومت اور غیرمنافع بخش تنظیموں کو مختلف شعبوں بالخصوص موبائل ایپ ڈیزائننگ، ویب ڈیزائننگ، سوشل میڈیا کانٹنٹ رائٹنگ، سافٹ وئیر، فوٹو اینڈ ویڈیو ایڈینگ وغیرہ میں خدمات فراہم کر رہے ہیں۔  ہمارے سینٹر نے زیادہ سے زیادہ خواتین کو تربیتی کورس کرانے کا آغاز کیا ہے اور انہیں گرافک ڈیزائن کے ساتھ ساتھ آن لائن کاروبار کی تربیت دے کر بااختیار بنانے کے قابل بنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

خیبرپختونخوا میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود کاروباری خواتین کو مشکلات کا سامنا

سٹیٹ بینک نے خواتین کے کاروباری اداروں کیلئے قرضہ کی حد 15 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دی

خیبرپختونخوا انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی بورڈ نے بھی صوبہ بھر میں خواتین کے لیے مختلف تربیتی کورسز کا آغاز کیا ہے جو صوبے میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک خوش آئند اقدام ہے۔

ثنا درانی نے امید ظاہر کی کہ صوبے میں ڈیجیٹل تربیتی کورس سے ہزاروں خواتین آن لائن پیسے کمانے کے قابل ہو جائیں گی اور اس عمل میں ہزاروں نوکریاں پیدا ہوں گی۔

ڈیجیٹل کورس شروع کرنے کے لیے این آئی سی نے 30 سے زائد خواتین کو چنا ہے جن میں سے زیادہ تر بے گھر اور مالی طور پر پسماندہ ہیں، ان 30 خواتین میں سے سات خواتین 40 سال سے زائد العمر اورکچھ بیوہ ہیں جبکہ باقی خواتین معاشی طور پر پسماندہ ہیں۔

ثناء درانی نے بتایا کہ ادارے سے مدد لینے کے بعد یہ خواتین اپنا کاروبار کھڑا کرنے کے قابل ہو جائیں گی اور کڑھائی سے منسلک خواتین آن لائن آرڈرز لے کر اپنا گھر چلا سکتی ہیںَ۔

اسی کے ساتھ ثنا درانی نے کہا کہ شب قدر کے علاقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو معروف ڈیزائنرز سے مفت تربیت دلائی جائے گی تاکہ وہ سلائی اور کڑھائی کی جدید فنی مہارت سیکھنے کے بعد اپنے آن لائن آرڈر لے سکیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here