’حکومت مقامی تیار کردہ گاڑیوں کی قیمتوں کے تعین کیلئے نظام وضع کرے‘

منیوفیکچررز صرف انجن درآمد کرکے گاڑیاں تیار کر رہے ہیں، ڈالر مہنگا ہوتے ہی قیمت بڑھا دی جاتی ہے، صارفین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں: احمد جواد

77

اسلام آباد: بزنس مین پینل کے سیکرٹری جنرل احمد جواد نے کہا ہے کہ حکومت اندرون ملک تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتوں کے تعین کےلئے نظام وضع کرے، پاکستان میں تیار کی جانے والی گاڑیوں کے معیار اور زیادہ قیمتوں کی وجہ سے صارفین متاثر ہو رہے ہیں،

سرکاری خبر رساں ایجنسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے احمد جواد نے کہا کہ حکومت عوام کی سہولت کےلئے اندرون ملک تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے خصوصی سلیب متعارف کروائے۔

انہوں نے کہا کہ گاڑیاں تیار کرنے والی مقامی صنعتیں جب چاہتی ہیں قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہیں جو مناسب نہیں ہے اور اس حوالہ سے ریگولیٹر سے منظوری بھی نہیں لی جاتی۔

احمد جواد نے مزید کہا کہ وزارت صنعت و پیداوار گاڑیوں کی قیمتوں کے تعین کے حوالہ سے لائحہ عمل مرتب کرے۔ صارفین سے سوزوکی آلٹو کی قیمت 12 لاکھ جبکہ ہنڈا سوک کی 43 لاکھ روپے وصول کی جا رہی ہے اور اتنی ہی قیمت ٹیوٹا کی گاڑی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منیوفیکچرز صرف انجن درآمد کرکے گاڑیاں تیار کر رہے ہیں جبکہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کے بعد قیمت بڑھا دی جاتی ہے جس سے صارفین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انجن اور فیول ٹینک کے علاوہ دیگر تمام پرزہ جات اندرون ملک ہی تیار کئے جا رہے ہیں ۔ اس لئے ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے گاڑیوں کی قیمت بڑھانا قرین انصاف نہیں ہے۔

احمد جواد نے کہا کہ مقامی صنعتیں گاڑیوں کی قیمت میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں ۔ اس سے صارف کو کیا فائدہ ہے کہ وہ مقامی گاڑی ہی خریدے۔ حکومت گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکسز میں مراعات دے تا کہ پاکستانی صارفین بھی عالمی معیار کی گاڑیاں خرید سکیں۔

احمد جواد نے بتایا کہ گاڑیاں تیار کرنے والی مقامی صنعت نے معاشی سست روی کے باوجود قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال 2019-20ء میں قومی معیشت پر دباﺅ تھا۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیاں اپنا منافع برقرار رکھنے کےلئے قیمت میں بلا جواز اضافہ کر لیتی ہیں ۔ ایف بی آر پالیسی بورڈ ٹیکسز میں ریلیف کی تجاویز مرتب کرے تاکہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمت میں کمی سے صارفین کو سہولت فراہم کی جاسکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here