61 فوڈ، نان فوڈ آئٹمز کو پی ایس کیو سی اے کی لازمی سرٹیفکیشن مارکس سکیم میں ڈالنے کی منظوری

اتھارٹی کی اکثر لیبارٹریاں بند، لائسنس رشوت دینے پر فروخت ہونے لگے، مزید اشیاء کی فہرست میں شمولیت کا مطلب کک بیکس کے نئے راستے کھولنا ہے: اندرونی ذرائع کا انکشاف

588

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے صارفین کی صحت اور تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے 61 فوڈ اور نان فوڈ آئٹمز کو پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے) کی لازمی سرٹیفکیشن مارکس سکیم میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منگل کو ہوا، جس میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی اس سمری کی منظوری دی گئی جس میں 61 فوڈ اور نان فوڈ آئٹمز کو پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی لازمی سرٹیفکیشن مارکس سکیم میں ڈالنے کی تجویز دی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ سمری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت کامرس نے مشترکہ طور پر تیار کی تھی۔ قانون کے مطابق  پی ایس کیو سی اے سرٹیفکیشن مارکس سکیم میں شامل تمام آئٹمز کو ٹیسٹ کرنے، سرٹیفکیٹ اور لائسنس جاری کرنے کی مجاز ہے، اس فہرست میں اب تک 105 فوڈ اور نان فوڈ آئٹمز شامل تھیں جن کی تعداد اب 166 ہو چکی ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ پی ایس کیو سی اے کی مذکورہ فہرست میں شامل آئٹمز میں دس سال بعد اضافہ کیا گیا ہے، اس سے ملک میں معیاری مصنوعات بنانے اور درآمد کرنے میں مدد ملے گی۔

لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ شائد وفاقی وزیر زمینی حقائق سے ناواقف ہیں کہ پہلے بھی مینوفیکچرنگ یا درآمد کےبعد تمام مصنوعات کا معیار پی ایس کیو سی اے ہی دیکھتی ہے لیکن فہرست میں کئی ایسی چیزیں شامل تھیں جنہیں سالوں تک چیک ہی نہیں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق کئی برقی مصنوعات مثلاََ ریفریجریٹر، الیکٹریسٹی ریڈنگ میٹر وغیرہ کا معیار کبھی چیک نہیں کیا گیا حالانکہ کئی صارفین اس معاملے میں تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اسی طرح چینی بھی لازمی چیکنگ والی لسٹ میں شامل ہے لیکن کبھی چیک نہیں کی گئی کیونکہ ذرائع کے مطابق اکثر شوگر ملز نے معیار کا لائسنس اتھارٹی سے حاصل کر رکھا ہے۔

سیمنٹ کو بھی سالہا سال سے چیک نہیں کیا جا رہا اور سیمنٹ انڈسٹری بھی پی ایس کیو سی اے کے سٹینڈرڈ کو نہیں مانتی، جبکہ کئی سیکٹرز نے اتھارٹی کے سرٹیفکیٹس کو عدالتوں میں بھی چیلنج کر رکھا ہے۔

اندرونی ذرائع کے مطابق ’اتھارٹی کی اکثر لیبارٹریاں بند پڑی ہیں، لائسنس یا سرٹیفکیٹ صرف رشوت کی بنیاد پر جاری کیے جا رہے ہیں، مزید اشیاء کی فہرست میں شمولیت کا مطلب رشوت اور کک بیکس کے نئے راستے کھولنا ہے، سرٹیفکیٹ باقاعدہ فروخت کیے جاتے ہیں، رشوت کے بغیر ایک بھی چیز بندرگاہوں سے کلئیر نہیں ہو سکتی۔‘

کابینہ نے جن 61 اشیاء کو لازمی فہرست میں شامل کیا ہے ان میں شیونگ کریم، سکن پائوڈر، ہئیر کریم، ملٹی نیوٹرینٹ فرٹیلائزر، بائیو فرٹیلائزر، امونیم سلفیٹ (کھاد)، پوٹاشیم سلفیٹ (کھاد کے گریڈ کی)، کاروں کے ٹائر اور رم، بائیسکل کے ٹائر، سرجیکل گلوز، کنکریٹ میں استعمال ہونے والا کیمیکل، ٹوٹیاں، گیس سپلائی کے پائپ، پولی تھیلین، پولی پروپالین پائپ، واٹر ٹینک، یو پی ایس، ایکس رے مشینیں و دیگر سامان، کمیونیکیشن کیبلز، ٹیلی ویژن ریسیورز اور ہیڈفونز سمیت دیگر چیزیں شامل ہیں۔

کابینہ اجلاس کے دیگر فیصلے

کابینہ نے سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کو مانیٹری و فسکل پالیسیز کوآرڈینیشن بورڈ میں بطور ممبر تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

کابینہ نے حکومت بلوچستان کی درخواست پر بلیدا ٹاﺅن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پراجیکٹ یا پیکیج کیلئے فرنٹیئر کور بلوچستان، ساﺅتھ کی دو پلاٹونوں کی تعیناتی کی منظوری دی۔ اجلاس میں چیئرمین پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریش کو بطور نمائندہ برائے پاکستان شپ اونرز ایسوسی ایشن کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں بطور ٹرسٹی 3 دسمبر2020ء تک تعینات کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 12، 19 اور 20 اگست 2020ء کے اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 12 اگست 2020ء کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی، اس حوالہ سے ایک فیصلہ نیویارک میں واقع روز ویلٹ ہوٹل کے حوالہ سے کیا گیا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ اس وقت روز ویلٹ ہوٹل کے بقایا جات 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، بعض غلط فہمیوں کے برعکس موجودہ اقدامات کا مقصد اس اثاثہ کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنا اور مسلسل بڑھنے والے نقصانات کو روکنا ہے۔

اجلاس نے کابینہ کمیٹی برائے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے 13 اگست 2020ء کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے ایم ایل ون منصوبہ کو کامیابی سے آگے بڑھانے پر وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی کاوشوں کو سراہا۔

اجلاس میں گندم اور چینی کی فراہمی اور مناسب قیمت کو یقینی بنانے کے حوالہ سے اقدامات پر کابینہ کو بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 60 ہزار ٹن گندم پر مشتمل ایک جہاز بدھ کی صبح کراچی بندرگاہ پر پہنچ جائے گا۔ 60 ہزار میٹرک ٹن گندم پر مشتمل ایک اور جہاز 28 اگست کو پہنچے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ستمبر میں 5 لاکھ ٹن گندم ملک میں پہنچ جائے گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے گندم کی قیمتوں میں کمی کا رجحان سامنے آ رہا ہے۔

وزیر صنعت حماد اظہر نے چینی کی قیمتوں میں کمی کے حوالہ سے اقدامات اور ان کے نتائج کے بارے میں بریف کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک حکومتی اقدامات کی بدولت چینی کی قیمت میں چار سے پانچ روپے کمی آ رہی ہے جو آئندہ ایک دو روز میں پرچون کی سطح پر بھی سامنے آئے گی۔ نجی شعبہ میں چینی کی درآمد کے حوالہ سے مثبت رجحان پایا جاتا ہے۔

وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی سیّد فخر امام نے کابینہ کو مستقبل میں گندم، کپاس اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کے حوالہ سے اقدامات جن میں معیاری بیج کی فراہمی، سپورٹ پرائس کے پیشگی اعلان کے حوالہ سے تجاویز سے آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے قلیل المدت، وسط اور طویل المدت منصوبہ سازی کا عمل شروع کیا جائے۔ اجلاس میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ بولز اچیومنٹ پروگرام کے حوالہ سے گائیڈ لائنز میں ترمیم کی بھی منظوی دی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here