مالی سال 2020 میں زرعی شعبے کو 1.2 کھرب روپے کے قرض جاری، سٹیٹ بینک

432

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2019-2020 کے دوران بینکوں نے زراعت کے شعبے کو 1215 ارب روپے کے قرضے جاری کیے۔ 

مرکزی بینک کے بیان کے مطابق “یہ گزشتہ مالی سال کے دوران ادا کی جانے والی رقم کے مقابلے میں 3.5 فیصد زیادہ ہے لیکن ایگریکلچرل کریڈٹ ایڈوائزری کمیٹی (اے سی اے سی) کی جانب سے پشاور میں نومبر 2019 میں 1350 ارب روپے کے طے کیے گئے کریڈٹ ہدف سے کم ہے”۔

زرعی قرضوں میں اضافے میں رکاوٹ کئی وجوہات کی بنا پر ہوئی جن میں کورونا وائرس وبا، ٹڈی دل کا حملہ، پانی کی قلت کے مسائل، کپاس، گنے، کھاد کی پیداوار میں کمی اور زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ کی وجوہات شامل ہیں۔

جون 2020 کے اختتام تک موجودہ زرعی قرضے کے پورٹ فولیو 581 ارب روپے اضافہ ہوا، گزشتہ سال کے 562 ارب روپے کے مقابلے میں مذکورہ قرضہ جات میں 3.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، جون 2019 کے اختتام تک زراعت کے کئی قرض دہندگان 4.01 ملین سے کم ہو کر جون 2020 کے اختتام تک کورونا وائرس سے پیش آنے والی صورتحال کی وجہ سے 3.74 ملین ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے:

زراعت کیلئے 50 ارب کی سبسڈی رکھی: حکومت کا اسمبلی میں جواب

کورونا وباء کے باوجود پاکستان نے ہدف سے زیادہ آم برآمد کر لیا

مالی سال 2020 کے دوران ادائیگیوں کے تجزیہ میں پانچ کمرشل بینکوں نے زرعی قرضو ں کے 705 ارب روپے کے سالانہ ہدف سے 708.3 ارب یا 100.5 فیصد کے زیادہ زرعی قرضے دینے کا انکشاف ہوا، خصوصی بینکوں نے 113 ارب روپے کے اپنے قرضوں کے ہدف میں سے صرف 62.9 فیصد یعنی 71.1 ارب روپے کے قرضے دیے۔ گھریلو سطح پر 14 نجی بینکوں کے گروہ نے 253.6 ارب روپے کے قرضوں کے ہدف کے مقابلے میں 225 ارب روپے ہی تقسیم کیے، مذکورہ بینکوں نے کُل ہدف کا 88.7 فیصد حاصل کیا۔

  مزید یہ کہ، پانچ اسلامک بینکوں نے بطور گروہ اپنے سالانہ ہدف کا 76.6 فیصد حاصل کیا، مذکورہ بینکوں نے 55 ارب روپے کے قرضوں کے ہدف میں سے صرف 42.1 ارب روپے تقسیم کیے تھے، یہ گزشتہ سال کے زیرجائزہ عرصے کے دوران 6.1 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح، اسلامک کمرشل بینکوں نے مالی سال 2020 کے دوران 55 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 43.5 ارب یعنی 79.2 فیصد کا ہدف حاصل کیا، یہ گزشتہ سال کی 32.7 ارب روپے کی ادائیگیوں کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔

مالی سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں مائیکرو فنانس سیکٹر کے زرعی قرض کورونا وائرس کی وجہ سے سست رہے۔ مائیکروفنانس بینکس (ایم ایف بیز) بطور گروپ چھوٹے کسانوں کو قرضے فراہم کرنے کا 75.7 فیصد کا ہدف طے کیا تھا، مائیکروفنانس بینکوں نے 139.3 ارب روپے زرعی قرضے تقسیم کیے گئے گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے کے 154 ارب روپے سے 9.5 فیصد کم ہیں۔

اسی طرح، مائیکروفنانس اداروں/ رُورل سپورٹ پروگرامز نے مجموعی طور پر 28.9 ارب روپے کے قرضے تقسیم کرتے ہوئے 73.4 فیصد ہدف طے کیا تھا، یہ چھوٹے اور درمیانے کسانوں کو گزشتہ سال کے زیرِ جائزہ عرصے کے مقابلے میں 34 ارب روپے کے فراہم کردہ قرضوں سے 15 فیصد کم تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here