وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات کی دو سالہ کارکردگی رپورٹ جاری

دو سالوں میں ملک میں 592 نئی آئی ٹی کمپنیاں قائم ہوئیں، متعدد منصوبہ جات کے ذریعے طلبہ و طالبات سمیت ہزاروں افراد کو مالی معاونت، ٹریننگ، ملازمتیں اور کاروباری رہنمائی و سہولیات فراہم کی گئیں۔

283

اسلام آباد: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشنز  نے اپنی دو سالہ کارکردگی کی رپورٹ جاری کردی جس میں کہا گیا ہے کہ جون 2018 سے جون 2020 تک کے عرصے میں ملک میں 592 نئی آئی ٹی کمپنیاں قائم ہوئیں۔

جون 2018 میں ملک میں ایک ہزار 762  آئی ٹی کمپنیاں کام کررہیں تھیں جن کی تعداد جون 2020 میں بڑھ کر 2ہزار 354  ہوگئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مالی سال 2019-20 کے اختتام تک آئی ٹی کے شعبے کی برآمدات کا مالی حجم 1.2 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے جو کہ مالی سال 2018-19 میں 831.35 ملین ڈالر تھا۔

رپورٹ میں ٹیلی کمیونکییشن سیکٹر میں بہتری کے لیے وزارت کے اقدامات جیسا کہ نیشنل انکیبیوشن سنٹرز پروگرام، نیشنل آئی سی ٹی گراس روٹ انیشی ایٹو ، ڈیجی سکلز ڈاٹ پے کے، سیڈ کے فنڈڈ منصوبہ جات،  یونیورسل سروس فنڈ کے منصوبے، ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد اور ٹیلی کام فاؤنڈیشن وغیرہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

نیشنل انکیبیوشن سنٹرز پروگرام کے تحت انٹرپرینورز کو ماہرین کی رہنمائی کے علاوہ رینٹ فری دفاتر، ہائی سپیڈ براڈ بینڈ انٹرنیٹ، فن ٹیک لیبارٹریز، ڈیزائن تھنکنگ لیبز، آرٹیفیشل انٹیلی جنس ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ سنٹرز اور دوسری سہولیات فراہم کی گئیں ہیں۔

دو سالوں میں نیشنل انکیبیوشن سنٹرز پروگرام نے 16 ہزار  174 نوکریاں پیدا کی۔

اسی طرح وزارت کے گراس روٹس منصوبے کے تحت آئی ٹی کے انڈر گریجوئٹ پروگرامز کے فائنل ائیر کے طلبہ و طالبات کو مالی وسائل فراہم کیے گئے۔

اس منصوبے کے آغاز کے چالیس دن کے اندر وزارت کو 2 ہزار 832 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 1 ہزار چالیس کو مالی سال 2020-21 کے پہلے حصے میں مالی معاونت فراہم کی گئی۔

مزید برآں ڈیجی سکلز منصوبے کے تحت بارہ لاکھ اسی ہزار افراد کو ٹریننگ دی گئی۔

سیڈ کے فنڈڈ منصوبہ جات کے تحت مختلف شعبہ جات کو مدد فراہم کی گئی اور پاکستان کی پہلی پیری ٹونیل کڈنی ڈائلسیز مشین، 5G ائیر انٹر فیس ٹیسٹ بیڈ، مالیاتی شعبے میں بلاک چین کا نفاذ، اگمنٹڈ ریلیٹی ایڈورٹائزمنٹ اور باخبر کسان جیسی ایپلی کیشن بنائی گئی۔

وزارت کی کارکردگی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جاز، زونگ اور ٹیلی نار کے لائسنس کی تجدید کے لیے مئی 2019 میں پی ٹی اے کو ہدایت جاری کردی گئیں تھیں اور ان کمپنیوں نے اس ضمن میں 687.8 ملین ڈالر کی رقم جمع کروادی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ سروسز پراجیکٹ سے نیشنل سپیس پروگرام کے لیے 2030 تک چھ سے سات سو ملین ڈالر حاصل ہونے کی توقع ہے۔

مزید برآں وزارت نے سپیکٹرم آکشن کی تیاری شروع کردی ہے جس کے لیے مراعاتی پیکج تیار کرلیا گیا ہے جس میں ملک میں اسمارٹ فونز کی تیاری کے حوالے سے پالیسی بھی شامل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here