2020ء بڑی عالمی کمپنیوں کی جانب سے شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ کی ادائیگی کے اعتبار سے بدترین سال کیوں؟ 

بڑی عالمی کمپنیوں کے شئیر ہولڈرز کو رواں سال منافع میں 23 فیصد کمی کا امکان، 2009ء کے بعد اب تک کا کم ترین ڈیویڈنڈ ہے: ایسٹ مینجمنٹ گروپ کی رپورٹ

227
down graph

لندن: بڑی عالمی کمپنیوں کی جانب سے شیئر ہولڈرز کو منافع میں رواں سال 17 سے 23 فیصد یا 400 ارب ڈالر تک کمی کا امکان ہے جس کی وجہ کورونا وائرس کے باعث عالمی سطح پر پیداواری و تجارتی سرگرمیوں کا تعطل ہے۔

برطانوی ایسٹ مینجمنٹ گروپ کی جانب سے گزشتہ روز جاری رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے نتیجے میں دنیا بھر کی معیشت بالخصوص بڑی عالمی کمپنیوں کے منافع میں کمی ہوئی ہے۔

کمپنیوں کی جانب سے اپنے شیئرہولڈرز کو دیا جانے والا ڈیویڈنڈ رواں سال دوسری سہ ماہی کے دوران 108 ارب ڈالر کم ہو کر 382 ارب ڈالر رہا جو کہ 2019ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں 22 فیصد کم اور 2009ء کے بعد اب تک کا کم ترین ڈیویڈنڈ ہے۔

گروپ کا کہنا ہے کہ دوسری سہ ماہی کے دوران شمالی امریکا کے علاوہ تمام خطوں میں کمپنیوں کی جانب سے شیئرہولڈرز کو ڈیویڈنڈ کی ادائیگی میں کمی دیکھنے میں آئی تاہم کینیڈا میں صورتحال لچکدار رہی۔

دنیا بھر میں 27 فیصد فرموں کی جانب سے ڈیویڈنڈ کی ادائیگی میں کمی کی گئی، شدید متاثرہ یورپ میں نصف سے زیادہ کمپنیوں نے شیئر ہولڈرز کو منافع کی ادائیگی میں کمی جبکہ ان میں سے دوتہائی نے ادائیگی روک ہی دی۔

رپورٹ کے مطابق 2020ء بڑی کمپنیوں کی جانب سے شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ کی ادائیگی کے اعتبار سے بدترین سال ہو گا۔

توقع ہے کہ ڈیویڈنڈ کی شرح میں رواں سال کم متاثرہ علاقوں میں 17 فیصد جبکہ دیگر ملکوں میں 23 فیصد تک کمی کا امکان ہے جبکہ ادا کیے جانے والے ڈیویڈنڈ کی مالیت بالترتیب 1.18 اور 1.10 ٹریلین ڈالر رہنے کا امکان ہے۔

ادھر یورپین سنٹرل بینک نے بلاک کے بینکوں اور دوسرے مالیاتی اداروں کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈ کی ادائیگی روک دیں جو دوسری سہ ماہی کے دوران پہلے ہی 45 فیصد کمی کے ساتھ 77 ارب ڈالر تک آ گئی ہے۔

اس عرصے میں کان کنی اور خام تیل سے وابستہ کمپنیاں زیادہ متاثر ہوئیں جس کی وجہ کورونا لاک ڈاﺅن کے باعث تیل اور دوسری معدنیات کی پیداوار، کھپت اور نرخوں میں ہونے والی وسیع تر کمی ہے۔

تاہم ٹیکنالوجی اور صحت عامہ سے متعلق کمپنیوں کا منافع کم ہونے کے بجائے بالترتیب 1.8 اور 0.1 فیصد کی شرح سے بڑھ گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here