فیصل آباد : 134.45 ملین کا ٹیکس چوری کرنے والا صنعت کار بالآخر پکڑ میں آ گیا

سید محمد اظہر فرضی کمپنی کے نام جعلی انوائسز بھیج کر سیلز ٹیکس سے بچتا رہا، ایف بی آر کے انٹیلی جنس ونگ کی کاروائی میں پکڑا گیا۔

1771

اسلام آباد : فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ( ان لینڈ ریونیو ) نے فیصل آباد میں کارروائی کرتے ہوئے ہوشربا ٹیکس چوری میں ملوث صنعت کار کو حراست میں لے لیا۔

ایف بی آر ذرائع نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ ایم ایس فضل اویس ٹیکسٹائلز کے مالک سید محمد اظہر ایک جعلی کمپنی ایم ایس ایرو انٹرنیشنل کو جعلی انوائسز بھیج کر 134.45 ملین روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث ہیں۔

ملزم کا ٹیکس فراڈ بے نقاب کیے جانے اور اسے حراست میں لیے جانے کے بعد اس کے خلاف سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء کے سیکشن 37 اے کے تحت مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ایف بی آر کو ایک ہفتے میں 50 ملین روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈز کلئیر کرنے کی ہدایت

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے 42 اور پاکستان کسٹمز کے 17 افسران تین ماہ کے لیے معطل

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایم ایس ایرو ایک جعلی کمپنی ہے جس کا کوئی وجود ہے ہی نہیں مگر ملزم اس کے  نام پر جعلی انوائسز بنا کر سیلز اور دوسرے ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچتا آ رہا تھا۔

مزید برآں 65  افراد نے اس فرضی اور جعلی کمپنی کے ذریعے خریداری کی اور 134.453 ملین روپے کا ٹیکس چوری کا گھناؤنا جرم کیا۔

واضح رہے کہ ایف بی آر چئیرمین نے تمام فیلڈ افسروں کو ٹیکس چوروں کے خلاف سخت آپریشن کرنے کا حکم دے رکھا ہے اور ایف بی آر ہیڈ کوارٹر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس چوری میں ملوث افراد اور اس جرم میں معاونت کرنے والوں کے ساتھ  کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی چاہے وہ ادارے کے اپنے ملازمین ہی کیوں نہ ہوں۔

ادارے کی جانب سے مزید کہا گیا تھا کہ عوام کی جانب سے ٹیکس چوروں کی نشاندہی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی اور جرم کے مرتکب افراد کی اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھے جانے کےعلاوہ قوانین کے مطابق انعام بھی دیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here