ایف بی آر کو ایک ہفتے میں 50 ملین روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈز کلئیر کرنے کی ہدایت

223

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) کو ایک ہفتے کے اندر 50 ملین روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈز ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد میں ایف بی آر کا اِن لینڈ ریونیو کورٹس، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ریفنڈز جاری کرنے سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا۔

مشیربرائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں وزیر برائے صنعت و پیداوار محمد حماد اظہر، وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم خان سواتی، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، ایم این اے فیض اللہ ، فنانس سیکرٹری نوید کامران بلوچ اور چئیرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی نے شرکت کی۔

اس موقع پر رکن (آئی آر آپریشنز) ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے ریفنڈز کے مسائل کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کُل 142 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز زیرِ التواء اور 90 ارب روپے کے انکم ٹیکس ریفنڈز ادائیگی کے لیے واجب الادا ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومت نے ایف بی آر میں بطور چیف انفارمیشن آفیسر تعیناتی کے لیے نام شارٹ لسٹ کرلیا

ایف بی آر کے چھاپے، 3 ارب 80 کروڑ روپے مالیت کی سمگل شدہ اشیاء ضبط

رکن آئی آر آپریشنز نے اجلاس کو بتایا کہ برآمداتی شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر غیرمعمولی طور پر 106 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کئے گئے ہیں۔ 2020ء کے دوران تازہ سرمایہ کاری اور ریفنڈ کلیمز کی مالیت بھی اتنی تھی جتنا پیسہ سرمایہ کاروں نے نکالا تھا اور سیلز ٹیکس کے تحت کُل 154 ارب روپے مالیت کے ریفنڈز جاری کیے گئے۔

کاروباری برادری کو مزید سہولیات دینے کے پیش نظر اور ان کے روزانہ کی بنیاد پر مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے ایک ٹیکنیکل کمیٹی قائم کرنے کا مشورہ دیا گیا جس میں کاروباری برادری کے نمائندے ریفنڈ سے متعلق مسائل کو جلد حل کرنے کا معائنہ کریں گے۔

اجلاس میں فیلڈ آفس کی سطح پرسہولیاتی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ کاروباری برادری اپنے مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کے قابل ہو سکیں۔

اس دوران شکایاتی سیل قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جہاں کاروباری افراد اپنی شکایات درج کریں گے اور یہ شکایاتی سیل انکی شکایات کے حل سے متعلق اپڈیٹ کر سکے گے۔

اجلاس میں ایف بی آر کو عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کا مشورہ دیتے ہوئے تجارتی ایسوسی ایشنز کے ساتھ انکی رائے اور ٹیکس سے متعلق مسائل سننے کے لیے اجلاس، میڈیا کانفرنسز اور ویڈیو کانفرنسز منعقد کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ودہولڈنگ ٹیکس پالیسی سے کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافہ ہوا اور آئندہ بجٹ میں ٹیکس پالیسی کو کم کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا۔

اجلاس میں ایف بی آر کو کورونا وائرس کے بعد رقوم کے لین دین کوآسان بنانے کے لیے ایکسپورٹ اور نان ایکسپورٹ سیکٹرز کے زیرِ التواء ٹیکس ریفنڈ پر بات چیت کی گئی اور کرپشن کے خلاف ایف بی آر کی زیرو ٹالرنس کی کوششوں کو سراہا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here