ای سی سی، پی آئی اے کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کے ذمہ 105 ملین ڈالر قرض ادائیگی کی منظوری

وزارت خزانہ کو وزارت قانون، ایوی ایشن ڈویژن اور منصوبہ بندی کمیشن سے مشاورت کی ہدایت، 2013 سے زیرالتواء انکم ٹیکس ری فنڈز کی ادائیگی کیلئے 40 ارب روپے کی منظوری، سارک کوویڈ 19 ہنگامی فنڈ کیلئے 3 ملین امریکی ڈالر کی منظوری

84

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کی ملکیت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کے ذمہ 105 ملین ڈالر قرضوں اور واجبات کی ادائیگی کی منظوری دیدی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر عبدالحفیظ کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کی نیویارک کے علاقہ مین ہٹن میں ملکیتی روز ویلٹ ہوٹل کی طرف سے 105 ملین ڈالر قرضہ کے حوالہ سے تمام واجبات کی ادائیگی کی منظوری دیدی گئی۔

ای سی سی نے روزویلٹ ہوٹل کے مالیاتی مسائل کے حل کیلئے ہوٹل کی طرف سے حاصل قرضہ کی شیڈول کے مطابق ادائیگی و ری فنانسنگ کے ضمن میں وزارت خزانہ کو وزارت قانون، ایوی ایشن ڈویژن اور منصوبہ بندی کمیشن کے ساتھ مشاورت سے طریقہ کار طے کرنے اور اسے منظوری کیلئے ای سی سی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں پائیدار ترقیاتی اہداف حصول پروگرام (ایس اے پی) کے تحت لیپس شدہ 8.01 ارب روپے کے فنڈز کو تکنیکی گرانٹس کے ذریعہ متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کیلئے دوبارہ مختص کرنے کے ضمن میں کابینہ ڈویژن کی تجویز کا جائزہ لیا اور اس کی منظوری دی۔

اجلاس میں زندہ جانوروں اور ان کے گوشت کی مصنوعات کی بین الاقوامی تجارت کو مرکزی دھارے میں لانے کیلئے  درآمدی پالیسی آرڈر 2016 کا جائزہ لیا اور اس میں ترامیم کی منظوری دی۔

اجلاس میں وزارت خزانہ کی تجویز پر سازگار مارکیٹ کی صورتحال کی بنیاد پر ایشیائی ترقیاتی بینک کو آف شور پاکستان روپیہ لکڈبانڈز کے اجراء کی تجویز کا جائزہ لیا گیا اوراس کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں کامیاب جوان یوتھ انٹرپرینیورشپ سکیم میں متعلقہ طریقہ کار پر پورا اترنے والے تمام پاکستانی شہریوں کو شامل کرنے کے ضمن میں پروگرام کے کلیدی شرائط پر نظرثانی کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں وزارت بین الصوبائی رابطہ کی ٹریول اور سیاحت سے متعلق کاروبار کیلئے لائسنس کی سالانہ تجدیدی فیس کی ادائیگی سے استثنیٰ دینے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا اور اس کی منظوری دی گئی۔ ایک سال کیلئے فیس سے استثنیٰ کا مالیاتی اثر 17 ملین روپے کے لگ بھگ ہوگا۔

اجلاس میں کورونا وائرس کے اثرات کو کم کرنے کیلئے 30 جون تک قرض دہندگان کی طرف سے قرضہ کی اصل زر پر ادائیگی ایک سال کیلئے موخر یا ری شیڈول کرنے کی سہولت کا جائزہ لیا گیا اور یہ سہولت وزیراعظم یوتھ قرضہ سکیم اور کامیاب جوان یوتھ انٹر پرینیورشپ سکیم کے تحت قرضہ حاصل کرنے والوں کو فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ۔

دونوں سکیموں کے تحت قرضہ حاصل کرنے والے افراد اس ضمن میں 30 ستمبر2020 سے قبل تحریری درخواست دیں گے، درخواست دہندگان دونوں سکیموں کے قواعد و ضوابط و طریقہ کار کے تحت شرح سود کی ادائیگی جاری رکھیں گے۔

اجلاس میں مارچ 2020ء میں سارک رہنمائوں کی ویڈیو کانفرس میں اعلان کردہ سارک کوویڈ19 ہنگامی فنڈ کیلئے 3 ملین امریکی ڈالر کے برابر اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ فنڈز کیلئے دیگر ممبر ممالک نے بھی اسی نوعیت کے اعلانات کئے ہیں۔

اجلاس میں مالی سال 2020-21 کیلئے کوویڈ ریلیف  اقدامات کیلئے ضابطہ جاتی شرائط کے مطابق غیر استعمال شدہ فنڈز کے ضمن مین 540 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں ریونیو ڈویژن کی تجویز پر 2013 سے زیرالتواء 5 کروڑ روپے تک کے انکم ٹیکس  ری فنڈز کی ادائیگی کیلئے 40 ارب روپے کے انتظامات کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا اور اس کی منظوری دی گئی۔ ای سی سی نے وزارت خزانہ کو مطلوبہ فنڈز کی ادائیگی کا انتظام کرنے کی ہدایت کی۔

ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے ایف بی آر کو زیرالتواء ری فنڈز کی صورتحال پر ای سی سی کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ٹیکس گزاروں کو ری فنڈز کی ادائیگی حکومت کی اولین ترجیح ہے، گزشتہ مالی سال میں ٹیکس گزاروں کو 250 ارب روپے کے ری فنڈز کی ادائیگی ہوئی ہے جو پیوستہ مالی سال کے مقابلے دوگنا زیادہ ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here