ناقص پلاننگ : آمدن کے لیے بنایا جانے والا رانیال پاور منصوبہ اربوں کا خسارہ کرنے لگا

منصوبے سے ڈیڑھ ارب کلو واٹ بجلی حاصل کرکے فروخت کی جانی تھی، پراجیکٹ مکمل ہوئے چار سال ہوگئے مگر نیشنل گرڈ تک بجلی کی ترسیل کے لیے ٹرانسمیشن لائن نہیں بچھائی جاسکی جس کی وجہ سے سالانہ پانچ ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے

84

پشاور : ٹرانسمیشن لائنز کی موجودگی نہ ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا حکومت رانیال پاور منصوبے سے نقصان اُٹھانے لگی۔

ذرائع کا پرافٹ اردو کو بتانا تھا کہ پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن ( پیڈو) نے 22 دسمبر 2014 کو پری اسیسمنٹ کے بغیر ہی منصوبے کا ٹھیکہ دے دیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت اس سے فائدہ نہیں اُٹھا پارہی۔

تفصیلات کے مطابق کے پی حکومت نے منصوبے سے ڈیڑھ ارب کلوواٹ بجلی پانچ روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرنا تھی مگر ٹرانسمیشن لائنز نہ ہونے کی وجہ سے منصوبہ سالانہ پانچ ارب روپے کا نقصان کر رہا ہے۔

منصوبے کو مکمل ہوئے چار سال ہوگئے ہیں اور اب تک یہ بیس ارب روپے کا نقصان کرچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 2024 میں بجلی پیدا کرنا شروع کر دے گا

’روشن بلوچستان پروگرام‘ کے تحت چھوٹے پیمانے پر بجلی کے منصوبے شروع کرنے کا منصوبہ

پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن ( پیڈو) کا پرافٹ اردو کو بتانا تھا کہ متعدد منصوبے مکمل ہونے کے باوجود سالانہ اربوں روپے کا نقصان کر رہے ہیں کیونکہ واپڈا نے نیشنل گرڈ تک بجلی پہنچانے کے لیے ٹرانسمیشن لائن نہیں بچھائی۔

آڈیٹر جنرل کے مطابق رینال پاور پراجیکٹ میں ہونے والے نقصان کو ٹالا جاسکتا تھا بشرطیکہ منصوبے کی ریویو رپورٹ تیار کی جاتی۔

انکا مزید کہنا تھا کہ توانائی کے محکمےنے بارہا درخواست کے باوجود منصوبے پر اعتراضات دور کرنے کے لیے  محکمہ جاتی آڈٹ کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا۔

انہوں نے منصوبے کی ناقص پلاننگ، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور منصوبے کی تکمیل میں تاخیر  کے ذمہ داران کا پتہ چلانے کے لیے تحقیقات کی سفارش کی ہے۔

معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے پرافٹ نے پختونخوا انرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن ( پیڈو) کے چیف انجینئر قاضی محمد نعیم اور وزیر اعلی خیبر پختون خواہ کے معاون خصوصی برائے توانائی حمایت اللہ خان سے رابطہ کیا مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here