شدید مالی بحران، پاکستان کی مالیاتی ریٹنگ ’بی نیگیٹو‘ ہو گئی

درجہ بندی کو زرِ مبادلہ کے کم ذخائر، خراب معاشی صورتحال اور انتہائی بھاری واجب الادا رقم کے باعث کم کر کے ’بی نیگیٹو‘ کیا گیا ہے

251

لاہور: مالیاتی درجہ بندی دینے کرنے والے ادارے ’ فِچ ریٹنگز‘ نے پاکستان کی قرض لینے کی درجہ بندی کو زرِ مبادلہ کے کم ذخائر، خراب معاشی صورتحال اور انتہائی بھاری واجب الادا رقم کے باعث کم کر کے ’بی نیگیٹو‘ کردیا۔

فچ ریٹنگز کا کہنا تھا کہ زرِ مبادلہ کے کم ذخائر، بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں میں میں اضافے، مالی صورتحال مسلسل خراب ہونے ملکی مجموعی پیداوار کی شرح کے اعتبار سے قرضو ں میں اضافے کی وجہ سے بیرونی مالیاتی خطرے کے پیشِ نظر طویل عرصے تک برقرار رہنے والی ریٹنگ ’بی‘ سے کم کر کے ’بی نیگیٹو‘ کی گئی۔

ایجنسی کے مطابق پاکستان کی شرح نمو آئندہ مالی سال کے دوران 4.2 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ یہ شرح رواں مالی سال تک 5.8 فیصد تک پہنچی تھی.

ریٹنگ ایجنسی نے گزشتہ سال کے مقابلے میں بیرونی قرض کی ادائیگیوں میں اضافے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں متوقع کمی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ مجموعی مالیاتی ضروریات کا تخمینہ لگایا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے لیے ہونے والے کامیاب مذاکرات بیرونی مالیاتی صورتحال کو بہتر بنا سکتے ہیں لیکن آئی ایم ایف پروگرام کے نفاذ میں خطرات موجود ہیں۔ تاہم پروگرام سے بجٹ بنانے میں سہولت مل سکتی ہے اور عالمی بنک کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بنک سے بھی مالی مدد مل سکتی ہے.

اس بارے میں مالیاتی ایجنسی کا کہنا تھا کہ خود مختار قرض کی ذمہ داریوں میں آئندہ 3 برس میں فی سال 7 سے 9 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی کرنا ہوگی جس میں آئندہ سال اپریل تک ایک ارب ڈالر کے یورو بونڈ کی ادائیگی بھی شامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آنے والے 10 سالوں تک بیرونی قرضوں کا حجم زیادہ رہنے کا امکان ہے کیوں کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق آؤٹ فلو کا آغاز 2020 میں ہوگا۔

فچ ریٹنگز کے لگائے گئے معاشی اندازوں کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کی عدم موجودگی میں غیر ملکی ذرِ مبادلہ کے منقولہ ذخائر کم ہوتے ہوئے حالیہ مالی سال کے اختتام تک 7 ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔

فچ ایٹنگز کے اندازے کے مطابق آئندہ مالی سال میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ 5.1 فیصد جبکہ 2020ء میں 4 فیصد تک ہو جائے گا جوکہ 2018ء میں 6.1 فیصد ہے.

ایجنسی کا کہنا تھا کہ ملکی مجموعی پیداوار کے اعتبار سے جون 2018 میں ختم ہونے والے مالی سال میں قرضوں کی شرح 72.5 فیصد رہی تاہم اب روپے کی قدر میں کمی اور مالی خسارے میں اضافے کی وجہ سے رواں مالی سال میں یہ شرح 75.6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اس کے ساتھ ادارے کے لگائے گئے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح بھی گزشتہ مالی سال کے 3.9 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

1 COMMENT

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here