خسارے کا شکار قومی ادارے 5 ماہ میں 1سو 15 ارب روپے قرض لے چکے

قرض لینے والے اداروں میں پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز، پاکستان ریلوے اور واپڈا شامل ہیں، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران ان اداروں نے صرف 2 ارب 58 کروڑ روپے قرض لیا تھا

478

کراچی: پہلے سے خسارے میں چلنے والے کچھ قومی اداروں نے رواں مالی سال کے ابتدائی 5 مہینوں کے دوران بینکوں سے 1 سو 15 ارب 46 کروڑ روپے قرض لے لیا۔ گزشتہ مالی سال کی اتنی ہی مدت کے دوران ان اداروں نے صرف 2 ارب 58 کروڑ روپے قرض لیا تھا۔قرض لینے والے اداروں میں پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز، پاکستان ریلوے اور واپڈا شامل ہیں۔

صرف پی آئی اے، اسٹیل ملز اور ریلوے کی وجہ سے گزشتہ 3 سال کے دوران مجموعی طور پر 7 سو 5 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق قومی ادارے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ تیزی سے مقروض ہورہے ہیں۔

گزشتہ برس ان اداروں نے مجموعی طور پر بینکوں سے 2 سو 45 ارب 40 کروڑ روپے کا قرض لیا تھا لیکن گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں یہ قرض بہت کم تھا جبکہ صرف 5 ماہ میں 2 ارب 58 کروڑ کے قرض لیے گئے۔

خسارے کا شکار قومی اداروں کی جانب سے 18-2017 کے اختتام پر 10 کھرب 68 ارب 20 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 17-2016 کے دوران 8 سو 22 ارب 50 کروڑ روپے قرض لیا گیا تھا۔تاہم اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے یہ ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے.

پاکستان تحریک انصاف نے زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ پبلک سیکٹر انٹرپرائزز (پی ایس ایز) کا خسارہ کم کرنے کی کوشش کریں گے تاہم حکومت نے ان کی نجکاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومت نے کہا تھا کہ وہ مقروض ادوروں کے نقصانات کم کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اس حوالے کوئی واضح پلان نہیں دیا گیا۔

حکومت کی جانب سے پہلے مرحلے میں پی آئی اے اور اسٹیل ملز کو بہتر بنانے کا ہدف دیا گیاتھا.وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ حکومت کے ابتدائی 100 روز کے دوران اس محکمے میں بہتری لائی گئی ہے۔ سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی ریلوے کو خسارے سے نکالنے کا دعوی کر چکے تھے تاہم خسارہ جوں کا توں موجود ہے.

حال ہی میں آئی ایم ایف کی جانب سے بتایا کہ گیا کہ 13-2012 کے دوران ان اداروں کا خسارہ جی ڈی پی کا 1.7 فیصد تھاجو بڑھ کر 2016 میں 2.3 فیصد ہوگیا تھا۔ اورآئی ایم ایف نے ان اداروں کی نجکاری کرنے کی تجویز پیش کی تھی.

خیال رہے کہ پاکستانی حکام کی آئندہ برس کے آغاز میں ہی آئی ایم ایف حکام سے ملاقات متوقع ہے جہاں خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری سے متعلق بات چیت کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here