پاکستان کے بیرونی قرضے، واجبات بڑھ کر 730 کھرب روپے تک پہنچ گئے

363

لاہور: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے ذمے بیرونی قرضے اور واجبات جاری مالی سال 2022-23ء کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران بڑھ کر 730 کھرب روپے تک پہنچ گئے جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 536 کھرب روپے سے 36.17 فیصد زیادہ ہیں۔

ملک کا بیرونی قرضہ، جس میں آئی ایم ایف، بیرونی سرمایہ کار ادروں اور غیر سرکاری مالیاتی اداروں کا قرضہ شامل ہے، جو مالی سال 2022 میں 215.9 کھرب روپے کے مقابلے میں 50.65 فیصد سالانہ بڑھ کر 325.2 کھرب ہو گیا۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ 21.2 کھرب روپے تھا جو مالی سال 2023 کے نو ماہ میں سالانہ 55 فیصد بڑھ گیا۔ اسی طرح قلیل المدتی قرض میں 20 فیصد سالانہ اضافہ ہوا جو مارچ 2022 میں 52.4 کھرب روپے تھا۔

دوسری طرف بیرونی اور مقامی واجبات سمیت حکومت کے ذمے کل واجبات 42.6 کھرب روپے تک پہنچ گئے جن میں جاری مالی سال کے نو ماہ میں 29 کھرب کے مقابلے میں 44 فیصد سالانہ اضافہ ہوا۔ قرضوں کے بوجھ میں اضافے کی بنیادی وجہ مالیاتی خسارہ پورا کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی ذرائع سے زائد از ضرورت قرض لینا ہے۔

سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق قرض کا بڑا حصہ مقامی طور پر 350.7 کھرب روپے تک پہنچ گیا جو سالانہ 25 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں 286.4 کھرب طویل المدتی قرضہ اور 63 کھرب روپے کا قلیل المدتی قرض شامل ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2023ء کے نو ماہ میں کل قرضوں اور واجبات کی ادائیگیاں 65.5 کھرب روپے رہیں جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 38 کھرب کے مقابلے میں سالانہ 72.77 فیصد زیادہ ہیں۔

قرضوں اور واجبات کی مجموعی ادائیگیوں میں سے 167 ارب روپے آئی ایم ایف کو ملکی قرضوں پر اصل ادائیگی کے طور پر جاری کیے گئے جبکہ باقی رقم غیر سرکاری بیرونی قرضوں اور سرکاری بیرونی قرضوں اور واجبات کی مد میں ادا کی گئی۔

حکومت نے واجبات پر سود کی ادائیگی کے لیے 129.3 ارب روپے ادا کیے جو مالی سال 2023ء کے 107 ارب کے مقابلے میں زیر جائزہ مدت میں سالانہ 20.7 فیصد اضافی تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here