بھارت کا تمام کنٹونمنٹ ایریاز تحلیل کرنے کا اعلان

488

بھارتی حکومت نے ملک بھر کے تمام فوجی کینٹونمنٹ بورڈز کو نوآبادیاتی دور کی یادگاریں سمجھتے ہوئے تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پورے ملک میں 62 فوجی چھائونیاں ہیں جن میں 56 تقسیمِ ہند سے پہلے کی ہیں جبکہ تقسیم کے بعد 15 سالوں کے دوران مزید 6 چھاؤنیوں کا اضافہ کیا گیا لیکن بھارت میں آخری فوجی چھائونی 1962ء میں اجمیر میں بنائی گئی تھی جس کے بعد 61 سالوں میں ملک میں کوئی نئی فوجی چھائونی نہیں بنی۔

انڈین حکومت کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کینٹ کے زیر اہتمام سویلین ایریاز کو اَب میونسپل اداروں کے حوالے کر دیا جائے گا اور آرمی ایریا کو خصوصی ملٹری سٹیشنز میں تبدیل کر دیا جائے گا۔

ریاست ہماچل پردیش کے ضلع کانگڑا میں واقع خوبصورت قصبہ یول (Yol) اپنی کینٹ کی حیثیت کو ختم کرنے والا پہلا قصبہ ہے۔ وہاں کے رہائشیوں کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ شہری سہولیات تک رسائی کیلئے کینٹ بورڈ کا خاتمہ ضروری ہے۔

اگلی باری راجستھان کے نصیر آباد کینٹ کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کام اُن علاقوں میں تیزی سے ہو گا جہاں کینٹونمنٹ ایریاز کے سول اور ملٹری حصوں کو الگ کرنا آسان ہے۔ ایک نکتہ نظر یہ بھی ہے کہ تمام چھائونیوں کو ملٹری سٹیشنز میں تبدیل کرنا ممکن نہیں کیونکہ فوجی اور سول آبادیاں ایک دوسرے میں مل جل گئی ہیں۔

ہندوستان میں پہلا کینٹ تقریباََ اڑھائی سو سال قبل برطانیہ نے کلکتہ کے قریب بیرک پور میں بنایا تھا۔

ذرائع کے مطابق بھارت میں سب سے زیادہ زمین وزارتِ دفاع کے پاس ہے جس کا رقبہ 17.9 لاکھ ایکڑ ہے۔ اس میں سے 1.6 لاکھ ایکڑ رقبے پر 62 کنٹونمنٹ ایریاز ہیں جن کی آبادی 50 لاکھ ہے۔ اس میں ملٹری اور سویلین دونوں قسم کی آبادیاں شامل ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ اقدام تمام سٹیک ہولڈرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا اور وہ شہری جو اَب تک میونسپلٹی کے ذریعے ریاستی حکومت کی فلاحی سکیموں سے محروم تھے اب ان سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

کینٹ علاقوں کے شہری عام طور پر متعلقہ ریاستی حکومتوں کی فلاحی سکیموں سے مستفید نہیں ہوتے، وجہ یہ ہے کہ فوجی سہولیات کینٹونمنٹ بورڈز کے زیرانتظام وزارت دفاع کے ڈیفنس سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے چلتی ہیں۔

بھارت میں ایک مدت سے عام شہریوں اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے بھی چھاؤنیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا کیونکہ دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ ان چھاؤنیوں اور ان سے ملحقہ سول علاقوں کی ترقی پر خرچ ہو ہو رہا تھا۔

گو کہ ایسے اقدامات بھارت میں ماضی میں بہت تنازعات پیدا کر چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد سیاست دانوں کو فوج سے زیادہ طاقتور دکھانا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دلّی، ممبئی، لکھنؤ، پونے، کلکتہ، امبالہ اور دوسرے شہروں کے پھیلتے ہوئے کینٹونمنٹ ایریاز کی زمینیں بہت قیمتی ہیں اور سیاست دانوں کی اُن پر نظر ہے۔

پاکستان کی طرح بھارت کے کینٹونمنٹ ایریاز کو شہری آبادی سے دُور بنایا گیا تھا لیکن اَب یہ شہروں کے تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے یہ پرائم لوکیشن میں آ گئے ہیں۔

حکام کے مطابق کنٹونمنٹ ایریاز کو سنبھالنا اب مشکل ہو چکا ہے اور اس حوالے سے ملٹری اور سویلین انتظامیہ کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ البتہ اس پروگرام کے حامی کہتے ہیں کہ اگر کنٹونمنٹس کو بتدریج تحلیل کیا جاتا ہے تو اس سے سالانہ دفاعی بجٹ میں بھی کمی آئے گی اور اگر فوج کو اعتراض ہے تو وہ تحلیل کے بعد بننے والے چھوٹے ملٹری سٹیشنز کا انتطام سنبھال سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here