50 فیصد کمائی ٹیکسوں کی نذر، پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ پس گیا!  

547

پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ کے پاس مناسب نمائندگی کا فقدان نظر آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس طبقہ کے معاشی مسائل کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ تاجروں اور برآمد کنندگان کے برعکس، جن کی آواز سنی جاتی ہے اور انہیں مراعات مل جاتی ہیں، تنخواہ دار طبقہ کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور یہ طبقہ براہ راست ٹیکس دہندہ کے طور پر اپنی آواز کو بے اثر پاتا ہے ۔

پاکستان میں ٹیکس اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب اس وقت 4 سے 5 فیصد ہے جو نسبتاً بہت کم ہے۔ حتیٰ کہ ایک پُرامید مفروضے کے ساتھ کہ معیشت کا صرف نصف حصہ غیر دستاویزی ہے، پھر بھی جی ڈی پی کو 50 فیصد تک کم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے حقیقت میں ٹیکس کا تناسب تقریباً 2 سے اڑھائی فیصد تک کی کم ترین سطح پر ہے۔ اس کے نتیجے میں اوسطاََ پاکستانی اپنی آمدن کا صرف 2 سے اڑھائی فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں جس میں بالواسطہ اور بلا واسطہ تمام ٹیکس شامل ہیں۔

تاہم تنخواہ دار طبقے کے ساتھ بہت مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔ اسے زیادہ ٹیکس دینا پڑتے ہیں جو بعض صورتوں میں تقریباََ 35 فیصد تک جا سکتے ہیں جبکہ بالواسطہ ٹیکس جیسا کہ جنرل سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی وغیرہ اس کے بوجھ میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں درمیانے درجے کے کیریئر کے حامل پیشہ ور افراد عام طور پر 25 سے 30 فیصد کی ٹیکس بریکٹ میں آتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی تنخواہ کا تقریباً 50 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یہ اُن پاکستانیوں کے برعکس ہے جو صرف اڑھائی فیصد ٹیکس دیتے ہیں۔

مہنگائی کے دور میں تنخواہ دار طبقے کی حالت زار اور بھی خراب ہے۔ کاروبار اور تاجر قیمتوں میں اضافے کا زیادہ سے زیادہ بوجھ صارفین پر منتقل کرتے رہتے ہیں۔ بدقسمتی سے مہنگائی کے اس دور میں تنخواہ دار طبقے کے پاس کوئی متبادل سہارا موجود نہیں۔ وہ اکثر تنخواہوں میں معمولی اضافے کے ساتھ  ہی گزارہ کرتے ہیں اور اگر مہنگائی کساد بازاری کا باعث بن جائے تو کاروباری مالکان اخراجات کو کم کرنے کے لیے برطرفیاں شروع کر دیتے ہیں جس سے لامحالہ تنخواہ دار طبقے کی مشکلات دُگنی ہو جاتی ہیں۔

پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال غیر مستحکم ہے۔ مستقبل کی سوچ رکھنے والے ممالک نمو پذیر معیشت میں تنخواہ دار افراد کی ناقابل تردید اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں پاکستانیوں جتنی تعلیم اور تجربہ کے حامل افراد کی تنخواہیں 5 سے 6 گنا زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ پاکستان چھوڑ کر بہتر مواقع کے لیے خلیجی ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

حال ہی میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے فری لانسرز کو گولڈن ویزے کی پیشکش کرکے دبئی سے کام کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جدید دور میں انسانی وسائل سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔ گوگل اور فیس بُک جیسی مشہور کمپنیاں باصلاحیت افراد کی صلاحیتوں کا نتیجہ ہیں نہ کہ تیل سے مالا مال، ہیروں کی کان کنی یا سٹیل بزنس کا نتیجہ۔ لہٰذا یہ کمپنیاں اُن باصلاحیت پیشہ ور افراد کو انتہائی پرکشش تنخواہیں دینے کے لیے تیار ہیں۔

پاکستان میں تنخواہ دار طبقے پر دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے جبکہ اس کو تنخواہ بہت کم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اس طبقے کے افراد کیلئے اپنا گھر اور اچھی گاڑی کا مالک ہونا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ زندگی گزارنا اُن کیلئے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ان عوامل کی وجہ سے ہنرمند پیشہ ور افراد نئے اور بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو نقصان ناقابل تلافی ہو سکتا ہے۔

پاکستانی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ان محنتی اور محب وطن شہریوں کو ملک میں ہی رہ کر کام کرنے پر آمادہ کرنے کیلئے اقدامات کریں جو ٹیکس ادا کر کے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اِس بات کا ادراک کرنا بہت ضروری ہے کہ یہ ہنرمند افراد قوم کے سماجی ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور کئی کمپنیوں کی کامیابی اُنہی کی مہارت اور علم کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ان کے تحفظات کو نظر انداز کرنا اور ان کی خاموشی کو نااہلی سمجھنا غلط اور پورے معاشرے کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ملک کو وفادار اور قابل بھروسہ ٹیکس دہندگان کو کھونے کا خطرہ درپیش ہے اور اگر انہیں کھو دیا گیا تو کاروباری اداروں کو ہنرمند افرادی قوت تلاش کرنے کی جدوجہد کرنا پڑے گی اور یہ نقصان ناقابل تلافی ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here