سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ: کلمہ چوک انڈر پاس کی ری ماڈلنگ تقریباََ مکمل، یہ منصوبہ کتنا فائدہ مند ہے؟

399

لاہور: لاہور کے شہریوں کو جلد ہی کلمہ چوک ری ماڈلنگ پراجیکٹ کی تکمیل سے سُکھ کا سانس لینے کا موقع ملے گا۔ یہ منصوبہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (سی بی ڈی) کے تحت پانچ ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

پنجاب سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق منصوبے پر کام تقریبآ مکمل کر لیا گیا ہے اور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (سی بی ڈی)، مین بلیوارڈ اور سینٹر پوائنٹ کی سڑکوں اور کلمہ چوک انڈر پاس کو ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے۔

اتھارٹی کے سربراہ ریاض حسین نے بتایا کہ فی الحال انڈر پاس وَن کو مکمل کرنے پر توجہ مرکوز ہے جو کلمہ چوک انڈر پاس سے نکل کر دائیں جانب مڑ کر فردوس مارکیٹ کی طرف جانے والے سی بی ڈی اور سینٹر پوائنٹ انڈر پاس کو جوڑتا ہے۔

یہ منصوبہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں کلمہ چوک انڈرپاس کی ری ماڈلنگ کی جا رہی ہے اور دوسرے حصے میں سی بی ڈی بلیوارڈ کی تعمیر جاری ہے۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہریوں کو لاہور کے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ تک آسان ترین رسائی دینا، برکت مارکیٹ (گارڈن ٹاؤن) سے کلمہ چوک، سینٹر پوائنٹ اور لعل شہباز قلندر انڈر پاس سے کیولری گرائونڈ کی جانب جانے والی ٹریفک اور کینٹ سے براستہ کلمہ چوک، برکت مارکیٹ اور فیروز پور روڈ اندرون لاہور کی جانب آنے والی ٹریفک کو سگنل فری راستہ مہیا کرنا ہے۔

پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کی تعمیر سرمایہ کاروں کو لاہور میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف راغب کرے گی جس سے مجموعی طور پر صوبے میں معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔

تاہم ماحولیات اور شہری تعمیرات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مفادِ عامہ کا منصوبہ نہیں، اس کے ماحولیاتی اثرات اس کی پانچ ارب روپے لاگت سے کہیں بڑے ہیں۔

لیکن سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کیلئے رقم کا بندوبست خود کر رہے ہیں۔ چونکہ یہ سرکاری زمین پر تعمیر ہو رہا ہے اور یہاں بلندوبالا رہائشی عمارتیں تعمیر کی جانی ہیں تو ان کی فروخت سے جمع ہونے والی رقم بھی اس منصوبے پر خرچ ہو گی۔ تاہم سرکاری زمین کا مطلب ہے کہ یہ اراضی دراصل ٹیکس دہندگان کی ملکیت ہے۔

ویسے تو اس منصوبے کو لاہور کے مکینوں کیلئے ایک سہولت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور اردگرد کے علاقوں کیلئے کشادہ انڈر پاس بنائے جا رہے ہیں۔ ان انڈرپاسز کی وجہ سے ٹریفک کو سی بی ڈی سے لے کر علی زیب روڈ، فردوس مارکیٹ سے کیولری تک سگنل فری رسائی ملے گی۔ اسی طرح برکت مارکیٹ سے صدیق ٹریڈ سینٹر اور وہاں سے بذریعہ جیل روڈ قرطبہ چوک مزنگ تک سگنل فری روٹ ملے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here