فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 154 فیصد اضافہ سے سگریٹ کی سمگلنگ 39 فیصد بڑھ گئی

401

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) میں تقریباََ 154 فیصد اضافے کے بعد صرف دو ماہ میں سگریٹ کی سمگلنگ میں 39 فیصد اضافہ ہو گیا۔

ٹیکسوں میں اضافے کے نتیجے میں ایک انب تو سگریٹ مہنگے ہو گئے جس سے تمباکو کی صنعت کو دھچکا لگا ہے۔ دوسری جانب سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں صرف دو ماہ کے مختصر عرصے میں مارکیٹ میں 70 سے زائد نئے سستے برانڈز آ چکے ہیں۔

بدھ کو ایک میڈیا بریفنگ  کے دوران پاکستان ٹوبیکو کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ) کے نمائندوں نے انکشاف کیا کہ سمگل شدہ سگریٹ سستے داموں دستیاب ہونے کی وجہ سے غیر قانونی سگریٹ کی فروخت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس نے قیمت سے آگاہ صارفین کو سستی، سمگل شدہ اور غیر قانونی سگریٹوں کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

پی ٹی سی حکام نے انکشاف کیا کہ جولائی 2021ء سے مارچ 2022ء تک کے عرصے کے دوران پی ٹی سی نے قومی خزانے میں 85 ارب روپے جمع کرائے تاہم رواں مالی سال کے اسی عرصے کے دوران آمدن صرف 14 فیصد اضافے سے 97 ارب روپے تک پہنچ پائی حالانکہ جون 2022ء سے سگریٹ کے دونوں درجوں (tiers) میں ایکسائز ڈیوٹیز میں 200 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ مایوس کن اعدادوشمار سرمایہ کاری کی مستقل حوصلہ شکنی کر رہے ہیں اور پاکستان میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ  کے شعبے کیلئے خطرہ ثابت ہو رہے ہیں۔

تصویری انتباہی پیغامات کے بغیر سمگل شدہ سگریٹ کے 100 سے زائد برانڈز مارکیٹ میں آ چکے ہیں

پی ٹی سی کے نمائندوں نے بتایا کہ تمباکو کی صنعت سے جمع ہونے والی کل آمدنی میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی  کا حصہ تقریباً 80 حصہ ہے جبکہ صرف 2 فیصد غیر قانونی شعبے کا حصہ ہے۔ حکام نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مارچ 2023ء کے لیے فروخت کا حجم مکمل طور پر پلٹ گیا ہے جس میں مارچ میں صنعت کی جائز فروخت 1.84 ارب سٹکس تھی جب کہ جنوری 2023ء (پری منی بجٹ) میں 4.84 ارب سٹکس تھے۔ اسی طرح غیر قانونی حجم جنوری 2023ء میں 2.85 ارب  سٹکس سے جو مارچ میں 4.8 ارب  سٹکس تک پہنچ گیا۔

پی ٹی سی کے اعدادوشمار کے مطابق گرافک ہیلتھ وارننگز کے بغیر سمگل شدہ سگریٹ کے 100 سے زائد برانڈز سے مارکیٹ میں سیلاب آچکا ہے۔ پی ٹی سی حکام کے مطابق مارچ 2023ء کے دوران سمگل شدہ سگریٹ کی فروخت میں 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ناجائز سیکٹر پر آہنی گرفت کی ضرورت ہے۔ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا نفاذ مستقل اور مکمل طور پر ہونا چاہیے۔ غیر قانونی سگریٹ کی لعنت کو روکنے کے لیے ایک ملک گیر مہم چلائی جانی چاہیے تاکہ پہلے سے ہی بیمار معیشت کے لیے صحیح نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔

فروری 2023 میں جاری ہونے والے منی بجٹ سے پہلے اول درجے کے سگریٹ کے ایک پیکٹ پر ایکسائز ڈیوٹی 130 روپے تھی، جبکہ منی بجٹ میں اسے بڑھا کر 330 روپے کر دیا گیا جس میں 154 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی طرح دوسرے درجے کے سگریٹ کے ایک پیکٹ پر ایکسائز ڈیوٹی 41 روپے سے بڑھا کر 101 روپے کر دی گئی جس میں 146 فیصد اضافہ ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں حکام نے بتایا کہ منی بجٹ کے بعد سامنے آنے والی ٹیکسوں میں بے ضابطگیوں کو دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ کو خط بھیجے جانے کے باوجود وزارت نے صنعت کی درخواست پر غور نہیں کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here