چھوٹا سا ملک جس کی لندن میں پراپرٹی ملکہ برطانیہ سے بھی زیادہ ہے

1199

29 لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل اس چھوٹے سے خلیجی ملک کی سرمایہ کاری اور پراپرٹی پوری دنیا میں پھیلی ہے۔ دنیا بھر میں بے شمار قیمتی املاک یا تو اس ملک کی براہ راست زیرملکیت ہیں یا پھر اس کے سرمایہ کار اور کمپنیاں ان املاک میں حصہ دار ہیں۔

لندن میں اس کی زیرملکیت پراپرٹی ملکہ برطانیہ کی پراپرٹی سے بھی زیادہ ہے جبکہ نیویارک میں اس کے سرمایہ کاروں کے پاس ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے 10 فیصد شئیرز ہیں۔

اس ملک کا میڈیا گروپ ہالی ووڈ میں مہنگے ترین مِرامیکس سٹوڈیوز (Miramax Studios) خرید چکا ہے جن کی قیمت کبھی ظاہر نہیں کی گئی۔

2016ء میں اس چھوٹے سے ملک نے سنگاپور میں بلیک راک انٹرنیشنل کا ایشیا سکوائر ٹاور اڑھائی ارب ڈالر میں خریدا تھا جو سنگاپور کی تاریخ میں کسی آفس بلڈنگ کی سب سے زیادہ قیمت تھی۔

یہ مشرق وسطیٰ کے عین درمیان میں واقع فی کس آمدن کے لحاظ سے دنیا کا امیر ترین ملک ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں قطر کی، جو تقریباََ ساڑھے 11 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہے لیکن تیل اور گیس کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے اور یہی ذخائر اس خلیجی ریاست کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

2005 میں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاری کیلئے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی۔ آج یہ 334 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اثاثوں کیساتھ دنیا کا 11واں بڑا خودمختار انویسٹمنٹ فنڈ بن چکی ہے۔ 2016ء میں قطری حکومت نے اپنا بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے اسی فنڈ کے ذریعے 9 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کیے تھے۔

قطر کی خوش قسمتی ہے کہ اس نے یہ فنڈ قائم کرنے کا بروقت فیصلہ کر لیا کیونکہ اب تیل اور گیس سے اتنی آمدن نہیں ہو رہی، جتنی ماضی میں ہوتی تھی۔ اس صورت حال میں انویسٹمنٹ فنڈ قطری حکومت کیلئے قابل اعتماد مالی سہارا بن چکا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب دنیا ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے تیل اور گیس پر انحصار کم کرکے متبادل توانائی کی جانب متوجہ ہو رہی ہے اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی آمدن میں بتدریج کمی ہو رہی ہے تو ایسے میں عرب ممالک نے بھی معاشی استحکام کیلئے آمدن کے دیگر ذرائع پر کام شروع کر دیا ہے۔ قطر بھی ان ملکوں میں سے ایک ہے جو تیل اور گیس پر معاشی انحصار ختم کرکے متبادل توانائی پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

بیرون ملک سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے کیلئے قطر نیشنل ویژن  2030ء متعارف کرایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو دوسرے ملکوں میں بہت زیادہ قطری سرمایہ کاری نظر آئے گی، خاص طور پر لندن میں۔

آج لندن کی 15 مہنگی ترین عمارتوں میں سے 34 فیصد قطری کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کی زیرملکیت ہیں جبکہ خود برطانوی کمپنیاں اپنے ہی ملک کے اس شہر میں محض  21فیصد قیمتی عمارتوں کی مالک ہیں۔

2015ء میں ایک قطری گروپ نے لندن کا کینری وارف (Canary Wharf) بزنس کمپلکس 4 ارب ڈالر میں خرید لیا تھا۔ یہی گروپ لندن میں ایچ ایس بی سی ٹاور اور شارد ٹاور کا مالک بھی ہے۔

لندن کے کچھ پوش علاقوں میں دفاتر، مارکیٹیں اور رہائشی عمارتیں ایسی ہیں جو مکمل طور پر قطری سرمایہ کاروں کی ملکیت ہیں۔ اسی وجہ سے شہر کا ایک علاقہ قطری کوارٹرز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جہاں 25 فیصد پراپرٹی کے مالک قطری سرمایہ کار ہیں۔

یہی نہیں بلکہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کی ذیلی کمپنی لندن میں امریکی سفارت خانے کی پرانی عمارت کو لگژری ہوٹل میں تبدیل کرنے کی اجازت بھی حاصل کر چکی ہے۔

قطر کی سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ تک ہی محدود نہیں بلکہ ایوی ایشن، سپورٹس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ کے 20 فیصد، برٹش ائیرویز کی مالک کمپنی کے 20 فیصد جبکہ روس کے سینٹ پیٹرزبرگ ائیرپورٹ کے 25 فیصد شئیرز کا مالک ہے۔

2012ء میں قطری شاہی خاندان نے اٹلی کا لگژری فیشن برانڈ ویلنٹینو (Valentino) 857 ملین ڈالر میں خرید لیا تھا۔ 2011ء قطری سرمایہ کاروں نے فرانسیسی  فٹ بال کلب پیرس سینٹ جرمین خریدا تھا جس نے بعد ازاں چار فٹ بال لیگز جیتیں۔

اگرچہ شروع میں قطری سرمایہ کاری کا مرکز یورپ تھا لیکن اب یہ ایشیا اور شمالی امریکا میں بھی سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے۔ اس نے 2020ء تک امریکا میں 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

امریکا میں اوبر اور سلیکون ویلی میں بھاری سرمایہ کاری سمیت نیویارک اور مین ہٹن میں 9 ارب ڈالر کے رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں 44 فیصد سرمایہ کاری قطری انویسٹرز کی سرگرمیوں کی ایک جھلک ہے۔

سرمایہ کاری کی یہ تمام مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سب سے زیادہ فی کس آمدن والا یہ چھوٹا سا ملک اپنا پیسہ کہاں لگا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here