رولس رائس کاریں اتنی مہنگی کیوں ہوتی ہیں؟

766

آپ نے سوشل میڈیا پر وہ تصویر تو دیکھی ہو گی جس میں ایک رولز رائس کار کے آگے دو جھاڑو بندھے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی نے اس جیسی چھ رولز رائس کاریں اپنی ریاست میں صفائی ستھرائی کیلئے وقف کر رکھیں تھیں۔

اس بات میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا افسانہ، اس بارے میں حقائق معلوم کرنا تاریخ دانوں کا کام ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ رولز رائس کاریں دنیا کی مہنگی ترین گاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں۔

اپنے پُرکشش اور خوبصورت ڈیزائن کی وجہ سے لگژری سمجھی جانے والی یہ گاڑیاں عموماََ سربراہان مملکت کے استعمال میں ہی رہی ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کی دو رولز رائس گاڑیوں کے بارے میں آپ نے ضرور پڑھ رکھا ہو گا اور ان کی تصویریں بھی دیکھی ہوں گی۔

1904ء میں برطانیہ میں ہنری رائس اور چارلس رولز نے مل کر رولز رائس کمپنی قائم کی تھی، یہ کمپنی دنیا میں لگژری گاڑیاں بنانے کیلئے مشہور ہے، لیکن ان گاڑیوں کی بیس پرائس (base price) کبھی ظاہر نہیں کی جاتی، بلکہ یہ قیمت ہر کسٹمر کیلئے الگ ہوتی ہے کیونکہ عموماََ لوگ یہ گاڑیاں اپنی مرضی اور پسند کے مطابق تیار کرواتے ہیں۔

آخر ان کاروں میں ایسا کیا ہے جو یہ دنیا میں مہنگی ترین سمجھی جاتی ہیں؟

سب سے پہلی چیز ہے کار کا رنگ۔ کمپنی آپ کی گاڑی کیلئے کم و بیش 44 ہزار قسم کے رنگ پیش کرتی ہے، یہ رنگ آپ کے گھر کا ہو سکتا ہے، آپ کی بیوی کی لِپ سٹک کا ہو سکتا ہے، آپ کی ملکیت کسی پینٹنگ کا ہو سکتا ہے، یا پھر کوئی بھی چیز جو آپ نے کبھی دیکھی ہو آپ اُس جیسا پینٹ اپنی رولز رائس پر گاڑی پر کروا سکتے ہیں اور کمپنی لازمی طور پر وہ رنگ کرکے دے گی۔

ایک شخص نے تو اپنے کتے کے رنگ کا پینٹ اپنی رولز رائس پر کروا لیا تھا۔ ایک اور شخص اس سے بھی دو قدم آگے چلا گیا اور اس نے کمپنی کو ایک ہزار ہیرے دیے جنہیں پیس کر پینٹ میں شامل کیا گیا اور چمکتی دمکتی رولز رائس تیار کی گئی۔

صرف اسی پر بس نہیں، بلکہ یہ رنگ آپ کے نام سے رجسٹر ہو جائے گا اور کوئی دوسرا شخص ویسا رنگ بغیر اجازت اپنی رولز رائس پر نہیں کروا سکے گا۔ کمپنی کہتی ہے کہ یہ پہلی چیز ہے جو اُسے دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔

ہر رولز رائس کار کے بیرونی حصے کی طرح اس کا اندرونی حصہ بھی لگژری بنایا جاتا ہے۔ گاڑی کے پینٹ سے لے کر اس کے سیلف رائٹنگ وہیلز تک زیادہ تر چیزیں اور پرزہ جات کمپنی کے کاریگر ہاتھ سے تیار کرتے ہیں۔

وہیلز پر رولز رائس کا لوگو آپ کو کبھی الٹا نظر نہیں آئے گا۔ اسی طرح گاڑی کے بونٹ پر سپرٹ آف ایکسٹیسی (Spirit of Ecstasy) اس کی خوبصورت کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2003 میں بی ایم ڈبلیو گروپ نے رولز رائس کا نام، سمبل اور سپرٹ آف ایکسٹیسی کا ڈیزائن استعمال کرنے کیلئے کمپنی کو 65 ملین ڈالر ادا کیے تھے۔

گاڑی کو اندر سے مکمل طور پر سائونڈ پروف بنایا جاتا ہے۔ اس کیلئے تقریباََ 300 پائونڈ تک انسولیشن کی جاتی ہے۔ ٹائروں کی رگڑ سے آواز پیدا ہونے سے روکنے کیلئے ٹائروں میں خاص قسم کی فوم بھری جاتی ہے جس سے ٹائروں سے پیدا ہونے والی آواز 9 ڈیسی بل تک کم ہو جاتی ہے۔

گاڑی کے رنگ کی طرح کسٹمر اس کا ڈیش بورڈ بھی گولڈ پلیٹڈ، تھری ڈی پرنٹڈ یا پھر سٹین لیس سٹیل سے تیار کروا سکتے ہیں۔ سیٹوں پر کسی بھی قسم کی کشیدہ کاری کروائی جا سکتی ہے۔ ایک کسٹمز نے تو سونے کی تاروں سے نقش و نگار بنانے کا آرڈر دے دیا جو کمپنی نے تیار کر کے دیا۔

اسی طرح گاڑی کی چھت اندر سے فائبر آپٹک روف لائٹس سے تیار کی جاتی ہے اور اندر بیٹھ کر تاروں بھری رات کا منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ چیز بھی کمپنی کے کاری گر ہاتھ سے تیار کرتے ہیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر لگژری کاریں خریدتا کون ہو گا اور سال بھر میں یہ کاریں کتنی فروخت ہو جاتی ہوں گی؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ کمپنی ہر سال محدود تعداد میں گاڑیاں تیار کرتی ہے وہ بھی صرف آرڈر پر۔ گزشتہ دس سالوں میں اس کی فروخت میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ سال 2019ء میں رولز رائس نے 5 ہزار 152 گاڑیاں فروخت کیں۔

دوسری کمپنیوں کی نسبت رولز رائس کی فروخت کم ہے کیونکہ دیگر کمپنیاں ایک سال میں لاکھوں گاڑیاں فروخت کرتی ہیں۔ دراصل فروخت میں کمی کی بنیادی وجہ رولز رائس کاروں کی بہت زیادہ قیمت ہے۔ اس کمپنی کی آج تک کی قیمتی ترین کار Sweptail کی قیمت ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھی۔

ایک ایسے وقت میں جب دیگر کمپنیاں ایک سے ایک بہترین فیچرز کی حامل کاریں بنا رہی ہیں، تب بھی رولز رائس کاریں صرف ایک وجہ سے خریدی جاتی ہیں اور وہ وجہ ہے ‘لگژری’۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here