وزیراعظم کے معاون خصوصی نے چینی سستی ہونے کی نوید سنا دی

5 اکتوبر سے چینی 90 روپے کلو میں ملے گی، کرشنگ سیزن شروع ہونے پر مزید سستی کی جائے گی، معاون خصوصی برائے غذائی تحفظ جمشید اقبال چیمہ کی پریس کانفرنس

180

فیصل آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی غذائی تحفظ جمشید اقبال چیمہ نے ملک میں چینی سستی ہونے کی نوید سناتے ہوئے کہا ہے کہ 5 اکتوبر سے چینی 90 روپے فی کلو میں دستیاب ہو گی۔

سوموار کو ایوب زرعی تحقیقاتی سینٹر فیصل آباد میں منعقدہ سیمینار کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت نے ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمت کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں، اَب صارفین کو 5 اکتوبر سے چینی 90 روپے فی کلو میں مہیا کی جائے گی جبکہ نئے کرشنگ سیزن کے بعد اس کی قیمت مزید کم کر کے 80 روپے فی کلو تک لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود ملک کے کئی شہروں میں اس وقت چینی 110 روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت ہو رہی ہے، حال ہی میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تین مختلف ٹینڈرز کے ذریعے 50 ہزار ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس سال 81 ملین ٹن گنا پیدا ہوا جس سے 7.2 ملین ٹن چینی بنائی گئی جو ہماری ضرورت سے زیادہ تھی کیونکہ اُس وقت ہماری چینی کی ملکی ضرورت 6.4 ملین ٹن ہے مگر کچھ عناصر نے چینی کی ذخیرہ اندوزی کر کے بازار میں اس کی قلت پیدا کر دی جس سے قیمت میں اضافہ ہو گیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ سستی چینی سہولت بازاروں، یوٹیلیٹی سٹورز اور حکومت کی طرف سے قائم کردہ ایک ہزار آئوٹ لیٹس پر دستیاب ہو گی جبکہ اگلے سال سے چینی کی سرکاری قیمت 80 روپے فی کلو مقرر کی جائے گی اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو صارفین کی سہولت کیلئے آئوٹ لیٹس کی تعداد ایک ہزار سے بڑھا کر 1500 کر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ چینی کی قیمت کو کنٹرول کریں اور اس کی فکسڈ پرائس پر فراہمی یقینی بنائیں۔

ایک سوال کے جواب میں جمشید چیمہ نے کہا کہ حکومت آٹے کے بحران پر قابو پانے کیلئے بھی کوشاں ہے اور ہم نے فلور ملوں سے 13 ہزار ٹن آٹا اٹھایا ہے جبکہ آج مزید 16 ہزار ٹن اٹھائیں گے، پنجاب میں آٹا 1151 روپے میں بنتا ہے جبکہ حکومت اس کا ریٹ 1100 روپے پر لانا چاہتی ہے تاکہ عوام کو یہ 55 روپے کلو میں دستیاب ہو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آٹے کی قیمت دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے تاہم اس کے باوجود حکومت نے سوا کروڑ غریب گھرانوں کو آٹے، چینی، گھی اور دالوں پر سبسڈی دینے کا پلان تشکیل دیا ہے تاکہ ان گھرانوں کو فکسڈ پرائس سے بھی کم قیمت میں یہ اشیائے دستیاب ہوں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت گھی پر ٹیکس کم کر رہی ہے تاکہ اس کی قیمت کم کی جا سکے، ایک سمری پارلیمنٹ میں بھیج دی گئی ہے، عنقریب ایک اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا جس کے بعد آٹا 55 روپے کلو، گھی 50 روپے کلو سستا اور چینی 90 روپے کلو کے حساب سے دستیاب ہو گی۔

معاون خصوی نے کہا چونکہ گندم کی بوائی کا سیزن قریب آ رہا ہے اس لئے اس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے میٹنگز اور سیمینارز کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں پہلا سیمینار ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ میں منعقد کیا گیا جس میں سائنسدانوں اور محکمہ زراعت کے افسروں پر زور دیا گیا کہ وہ زیادہ پیداوار والی گندم کی اقسام متعارف کرائیں تاکہ زیادہ پیداوار حاصل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال 27.8 ملین ٹن گندم کی پیداوار حاصل کی جو فی الحال قومی ضروریات کیلئے کافی ہے تاہم آنے والے وقت میں ہمیں گندم کی 30 ملین ٹن پیداوار کی ضرورت ہے جس میں سے 22.5 ملین ٹن گندم پنجاب میں پیدا کی جائے گی جبکہ باقی صوبے 7.5 ملین ٹن کا حصہ شامل کریں گے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر زراعت پنجاب حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ گندم کی پیداوار بڑھانے کیلئے مہم شروع کر دی ہے، سائنسدانوں اور زرعی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کا بیج عام کسان کو مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں زیادہ پیداوار لینے کے طریقوں سے بھی آگاہ کریں جبکہ حکومت اس سلسلہ میں کھاد، سپرے وغیرہ خریدنے میں بھی سہولیات مہیا کرے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here