طویل انتظار کے بعد گرین لائن منصوبے کیلئے 40 بسیں کراچی پہنچ گئیں

مزید 40 بسیں اکتوبر میں پہنچیں گی، گرین لائن کا ٹیسٹ رَن آئندہ ماہ کے آخر تک اور کمرشل آپریشن نومبر کے آخر تک متوقع ہے

179

اسلام آباد: طویل ترین انتظار کے بعد بالآخر کراچی کا گرین لائن ٹرانسپورٹ منصوبہ اپنے آغاز کے قریب ہے اور اس کیلئے 40 بسوں کی پہلی کھیپ کراچی پہنچ چکی ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسدعمر نے بتایا کہ مزید 40 بسیں اکتوبر کے آخر تک پہنچ جائیں گی، گرین لائن کا ٹیسٹ رَن آئندہ ماہ کے آخر تک اور کمرشل آپریشن نومبر کے آخر تک متوقع ہے۔

گرین لائن پروجیکٹ کیلئے 40 بسوں کی پہلی کھیپ گزشتہ روز کراچی بندرگاہ پہنچی، اس موقع پر منعقدہ تقریب میں وفاقی وزراء اسد عمر، سید امین الحق، علی زیدی، گورنر سندھ عمران اسماعیل، قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ، صدر پی ٹی آئی کراچی خرم شیر زمان اور دیگر نے شرکت کی۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ ہم کئی سالوں سے سن رہے تھے کہ شہر قائد کے لئے اتنی بسیں آ رہی ہے لیکن 13 سالوں میں کراچی کے لئے ایک بھی بس نہیں آئی، آج 40 بسیں پہنچ چکی ہے یہ وعدے پر عمل کرنے کا ثبوت ہے، ہم وزیراعظم عمران خان سے درخواست کریں گے وہ کراچی آ کر اس منصوبے کا افتتاح کریں۔

گورنرسندھ نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو مناسب کرائے پر سفری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس سے پہلے ہم نے کراچی کو 52 فائر ٹینڈرز دیے لیکن عملے کی کمی کی وجہ سے ان کو سو فیصد عمل میں نہیں لایا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ہدف تھا کہ اپنی مدت میں گرین لائن منصوبے پر بس چلوا دیں اور  کے فور منصوبے سے کراچی کو پانی دے سکیں، گرین لائن کی بسیں پہنچ چکی ہے ،اس پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان اور جی ڈی اے کا بھی مشکور ہوں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پہلی دفعہ جدید ٹرانسپورٹ کا نظام بننے جا رہا ہے، مجموعی طور پر گرین لائن پر 80 بسیں چلیں گی۔

انہوں نے کہا کہ بسوں میں سافٹ وئیر سسٹم لوڈ ہو گا، کنٹرول روم پہلے سے تیار ہے، ٹریک اور سٹیشنز بھی تیار ہیں، ڈرائیورز کی ٹریننگ ہو گی اور تقریباََ دو ماہ کے اندر گرین لائن کی بسیں چلنا شروع ہو جائیں گی، امید ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد اس جدید ٹرانسپورٹ کے نظام سے فائدہ اٹھائے گی۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ کراچی کے شہریوں کے لئے ٹرانسپورٹ کا اس سے بھی بڑا منصوبہ سرکلر ریلوے (کے سی آر) ہے اور آئندہ ہفتہ ایکنک اس کی منظوری دے دی گی، وزیراعظم عمران خان کے سی آر منصوبے کا جلد سنگ بنیاد رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کے سی آر تقریباََ 250 ارب روپے کا منصوبہ ہے جبکہ گرین لائن منصوبہ تقریباََ 27 ارب روپے کا ہے۔ محمود آباد، گجر اور اورنگی نالوں کے ساتھ ساتھ تقریباََ 54 سڑکیں بھی بننی ہیں کیونکہ نالوں کی صفائی مکمل ہو چکی ہے، تو پھر ان سڑکوں کے بھی سنگ بنیاد رکھے جائیں گے۔ آئندہ چند ہفتوں کے دوران کراچی کو مزید اچھی خبریں ملیں گی۔

اسدعمر نے کہا کہ کراچی کے عوام نے عام انتخابات میں عمران خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا تھا، اس شہر کا حکومت پر حق ہے کہ یہاں ترقیاتی کام ہوں، لیکن بدقسمتی سے آج سے قبل یہ حق صوبائی حکومت نے ادا کیا اور نہ ہی وفاقی حکومت نے ادا کیا لیکن وزیراعظم عمران خان کی کراچی کے لئے خصوصی ہدایت تھی اور ان ہدایات کی روشنی میں کراچی کے لئے پیکج بنایا گیا اور مختلف منصوبے بنائے گئے اور اس کا اعلان کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان منصوبوں کے اعلان کے بعد ہم پر تنقید بھی ہوئی کہ صرف اعلانات کئے ہیں لیکن جب بڑے منصوبے بنائے جاتے ہیں تو اس کے لئے منصوبہ بندی میں وقت لگتا ہے اور متعلقہ ٹیمیں اس حوالے سے کام کر رہی تھیں۔

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام سید امین الحق نے کہا کہ گرین لائن کی بسیں کراچی پہنچنے پر شہریوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور وفاقی حکومت کا اس پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شہری انتہائی مناسب کرائے پر ان جدید بسوں میں سفر کرسکیں گے ۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here