سعودی عرب: غیرملکیوں پر انحصار کم کرنے کیلئے مقامی افرادی قوت کی ترقی کا پروگرام شروع

ہیومن کپیسٹی ڈویلپمنٹ پروگرام سعودی وژن 2030ء میں بھی شامل، طلبہ کو لیبر مارکیٹ سے منسلک کرنے کے لیے پیشہ وارانہ رہنمائی اور پیشہ وارانہ رجحانات متعین کرنے میں مدد کی جائے گی، ولی عہد محمد بن سلمان

171

ریاض: سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے غیرملکی کارکنوں پر انحصار کم کرنے اور مقامی نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے افرادی قوت کے فروغ کا پروگرام شروع کر دیا۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق فروغ افرادی قوت پروگرام 89 مختلف سکیموں پر مشتمل ہے، اس کے ذریعے سعودی وژن 2030ء کے 16 تذویراتی اہداف پورے کیے جائیں گے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ہیومن کپیسٹی ڈویلپمنٹ پروگرام سعودی وژن 2030ء میں بھی شامل ہے، یہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر افرادی قوت میں مسابقت کا جذبہ مضبوط کرے گا، اس کے ذریعے ہمارے عوام موجودہ اور بین الاقوامی لیبر مارکیٹ کے چیلنجز کا مقابلہ کریں گے۔

ولی عہد نے کہا کہ افرادی قوت کے فروغ کا سفر بچپن سے شروع ہو گا جو کالجوں، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ انسٹی ٹیوٹس اور یونیورسٹیوں سے ہوتے ہوئے لیبر مارکیٹ تک پہنچے گا، اس کا مقصد شہریوں میں مہارتیں پیدا کرنا اور ان کی علمی قابلیت کو بڑھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیبر مارکیٹ کے نت نئے تقاضوں کو پورا کرنا بھی اس پروگرام کا اہم مقصد ہے، یہ پروگرام مضبوط معیشت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گا، بچوں کی استعداد بڑھانے کے لیے نرسری سکول بڑے پیمانے پر قائم ہوں گے جہاں ان کی نجی مہارتوں کو فروغ دیا جائے گا، طلبہ کو لیبر مارکیٹ سے منسلک کرنے کے لیے پیشہ وارانہ رہنمائی اور پیشہ وارانہ رجحانات متعین کرنے میں مدد کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 2030ء تک سعودی عرب کی دو یونیورسٹیوں کو دنیا کی سو بہترین جامعات کی فہرست میں شامل کرایا جائے گا۔

محمد بن سلمان نے کہا کہ فروغ افرادی قوت پروگرام مملکت میں افرادی قوت کی تیاری پر توجہ مرکوز کرے گا، پرائیویٹ سیکٹر اور بغیر منافع والے سیکٹرز کے ساتھ وسیع البنیاد شراکت قائم کی جائے گی، اس سے 23 فیصد سے 90 فیصد تک بچوں کو نرسری سکولوں سے منسلک ہونے کے مواقع مہیا ہوں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here