پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطہ میں سب سے کم ہیں: وزیر خزانہ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ناگزیر تھا، پٹرلیم لیوی کو کم رکھ کر حکومت نے زیادہ بوجھ خود برداشت کیا، شوکت ترین

162

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پورے خطہ میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں سب سے کم ہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ اور پاکستانی روپیہ کی قدرمیں کمی کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ناگزیر تھا۔

جمعہ کو وزیراعظم  کے معاون خصوصی جمشید اقبال چیمہ سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں فی لٹر پیٹرول کی قیمت 0.730 ڈالر جبکہ بھارت میں 1.391 ڈالر، ترکی میں 0.931 ڈالر، بنگلہ دیش میں 1.045 ڈالر اور سری لنکا میں 0.923 ڈالر فی لٹر ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم کی قیمت میں اضافہ کا زیادہ تر بوجھ خود برداشت کیا ہے اور اس مقصد کیلئے پیٹرولیم لیوی کو کم ترین سطح پر رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر براہ راست پڑنے والے اثرات سے بخوبی آگاہ ہے۔

ملاقات میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے رحجان کا جائزہ بھی لیا گیا، وزیر خزانہ نے کہا کہ کوویڈ 19 کی عالمگیر وبا کی وجہ سے عالمی سطح پر اشیائے ضروریہ کی پیداوار میں کمی جبکہ رسد میں خلل آیا ہے، اسی تناظر میں کی قیمتوں میں اضافہ کے رحجان پر قابو پانے کیلئے حکومت نے انتظامی اقدامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ عالمی سطح پر اشیائے ضروریہ کی پیداوار میں کمی اور رسد میں خلل کی وجہ سے پاکستان پر براہ راست اثرات مرتب ہوئے ہیں کیونکہ پاکستان گندم، چینی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیائے خوراک کا بڑا درآمد کنندہ ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلئے پرعزم ہے، اسی تناظر میں حکومت گندم، چینی اور دالوں کے تذویراتی ذخائر کے قیام کیلئے اقدامات کر رہی ہے، حکومت ایک کروڑ 25 لاکھ خاندانوں کو بنیادی ضرورت کی چار اشیاء پر براہِ راست سبسڈی فراہم کر رہی ہے جو ملکی آبادی کا چالیس فیصد بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو ملکی مارکیٹ میں گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں کے حوالہ سے حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اس کے علاوہ سٹرٹیجک ذخائر کے قیام کیلئے 6 لاکھ ملین میٹرک ٹن چینی اور 4 لاکھ ملین میٹرک ٹن گندم درآمد کی جا رہی ہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ حکومتی نرخوں پر اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، ان تمام اقدامات کا مقصد مختصر مدت میں بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام لانا ہے، وسط مدتی اور طویل المعیاد منصوبہ بندی کے تحت زرعی پیداوار بالخصوص کلیدی زرعی اشیاء کی پیداوار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ حکومت ایگری مالز، تذویراتی تنصیبات اور کموڈٹی وئیر ہائوسز کے قیام کیلئے طریقہ ہائے کار وضع کر رہی ہے، اس سے کسانوں کو اپنی پیداوار کا صحیح معاوضہ ملے گا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے زراعت جمشید اقبال چیمہ نے وزیر خزانہ کو ملک میں دالوں کے تذویراتی ذخائر کے قیام کیلئے 40 ہزار ٹن دال مونگ اور 40 ہزار ٹن دال چنا کی خریداری کیلئے انتظامات سے آگاہ کیا جنہیں یوٹیلیٹی سٹورز اور سستا بازاروں کے ذریعہ مناسب قیمتوں پر فروخت کیا جائے گا، آئندہ ہفتہ ای سی سی کے اجلاس میں اس حوالہ سے باقاعدہ منظوری لی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here