مسابقتی کمیشن کی انکوائری میں دونوں بڑی ٹریکٹر ساز کمپنیاں تجارتی گٹھ جوڑ میں ملوث نکلیں

ٹریکٹر ساز انڈسٹری کے بارے میں انکوائری مکمل، ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ اور الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ اپنی اجاراہ دارانہ پوزیشن کے استعمال کی وجہ سے مسابقتی ایکٹ کے سیکشن 3 اور تجارتی گٹھ جوڑ کی وجہ سے سیکشن 4 کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے، ذرائع

552

اسلام آباد: مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی ٹریکٹر ساز انڈسٹری سے متعلق ایک انکوائری میں دو بڑے مینوفیکچررز تجارتی گٹھ جوڑ (کارٹلائزیشن) میں ملوث نکلے۔

ذرائع کے مطابق مسابقتی ایکٹ 2010ء کے سیکشن 37 (1) کے تحت ٹریکٹر ساز انڈسٹری کے بارے میں انکوائری مکمل کر لی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ اور الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ اپنی اجاراہ دارانہ پوزیشن کے استعمال کی وجہ سے مسابقتی ایکٹ کےسیکشن 3 اور تجارتی گٹھ جوڑ کی وجہ سے سیکشن 4 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

ٹریکٹر مینوفیکچررز کے خلاف انکوائری کا آغاز مسابقتی کمشین نے خود کیا تھا تاہم اسے پاکستان سٹیزن پورٹل پر بھی شکایات موصول ہوئیں تھیں کہ حکومت کی جانب سے دی گئی سبسڈی کے باوجود ٹریکٹروں کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا گیا ہے، شکایت کنندگان نے یہ بھی لکھا کہ کمپنیاں ناقص معیار کے ٹریکٹر بنا کر فروخت کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ٹریکٹروں کی قیمتیں بڑھانے کیلئے ’گٹھ جوڑ‘، مسابقتی کمیشن کا ملت اور الغازی ٹریکٹرز کے دفاتر پر چھاپہ

انکوائری کے دوران مسابقتی کمیشن نے ملت ٹریکٹرز اور الغازی ٹریکٹرز سے گزشتہ تین سال کے دوران قیمتوں اور پیداوار سے متعلق تمام ڈیٹا دینے کا مطالبہ کیا، ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں مینوفیکچررز نے کم عرصے میں تسلسل کے ساتھ قیمتوں میں کم و بیش ایک جیسا ہی اضافہ کیا۔

اس سے قبل 2 ستمبر کو مسابقتی کمیشن کے حکام نے مسابقت مخالف سرگرمیوں کے شبہ میں ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ لاہور اور الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ کراچی کے دفاتر پر چھاپہ مار کر اہم دستاویزات قبضے میں لے لیں تھیں۔

سی سی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ملک میں ٹریکٹر ساز انڈسٹری دوہری مارکیٹ کا ڈھانچہ رکھتی ہے یعنی مارکیٹ میں دو سپلائرز کی اجارہ داری ہے جس کی وجہ سے یہ مارکیٹ تجارتی گٹھ جوڑکیلئے بھی زیادہ حساس ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ملت ٹریکٹرز نے اکتوبر 2018ء میں 5.1 فیصد، جولائی 2019ء میں 13.7 فیصد ، مارچ 2020ء میں 3.2 فیصد اور جولائی 2020ء میں 7.5 فیصد قیمتوں میں اضافہ کیا۔ جبکہ الغازی ٹریکٹرز نے بھی اکتوبر، نومبر 2018ء میں 5.3 فیصد، اگست 2019ء میں 10.5 فیصد، مارچ 2020ء میں 4.1 فیصد اور جولائی 2020ء میں 7.5 فیصد قیمتوں میں اضافہ کیا۔

سی سی پی کا مزید کہنا تھا کہ ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ اور اس کے ڈیلرز کے درمیان ڈیلرشپ معاہدے کی جانچ سے معلوم ہوا کہ مذکورہ معاہدے کی شق 5 ڈیلرز کو کمپنی کی جانب سے مقررہ قیمت سے کم قیمت پر فروخت کرنے سے روکتی ہے جو ممنوعہ ‘ری سیل پرائس مینٹیننس’ (آر پی ایم) کے زمرے میں آتا ہے اور کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی بھی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں تین ادارے ٹریکٹر سازی سے وابستہ ہیں جن میں ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ (ایم ٹی ایل)، الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ (اے جی ٹی ایل)اور اورینٹ ٹریکٹرز لمیٹڈ (او ٹی ایل) شامل ہیں۔ تینوں میں سے دو مینوفیکچررز ملت ٹریکٹرز لمیٹڈ (70 فیصد) اور الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ (29 فیصد) کا مجموعی مارکیٹ شیئر 99 فیصد ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here