’52 لاکھ ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے‘

چھوٹے کاروباروں کی مالیاتی وسائل تک رسائی کیلئے حکومت قومی ایس ایم ایز پالیسی تشکیل دے رہی ہے، وزیر برائے صنعت و پیداوار خسرو بختیار کی امریکن بزنس کونسل کے نمائندگان سے ملاقات اور ٹرانشین ٹیکنو الیکٹرانکس کا دورہ

252

کراچی: وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے کہا ہے کہ حکومت صنعتی ترقی کو اولین ترجیح دیتی ہے اور چھوٹے اور درمیانے درجہ کے تجارتی اداروں باالخصوص برآمدی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر خسرو بختیار نے امریکن بزنس کونسل پاکستان کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجہ کے تجارتی و صنعتی اداروں کی تعداد 52 لاکھ کے لگ بھگ ہے اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے 90 فیصد پر محیط ہے، ان ایس ایم ایز میں ٹیکسٹائل، لیدر، جوتا سازی، آلات جراحی، کھیلوں کی مصنوعات اور انجیئیرنگ مصنوعات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے صنعت و سرمایہ کاری کے فروغ کی خاطر اہم قانونی اصلاحات متعارف کروائی ہیں جن کی بدولت عالمی بینک کی کاروبار میں آسانیوں سے متعلق انڈیکس (ایز آف ڈوئنگ بزنس انڈکس 2020ء) میں پاکستان 136ویں نمبر سے 108ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت صنعت و پیداوار قومی ایس ایم ایز پالیسی تشکیل دے رہی ہے جس کے تحت ان اداروں کی مالیاتی وسائل تک رسائی بڑھانے کے لئے مراعات، محصولات کے سادہ قوانین اور دیگر قواعدوضوابط کو آسان بنانا شامل ہو گا۔

خسرو بختیار نے کہا کہ ملکی سطح پر گاڑیوں کی صنعت کو فروغ دینے اور ان کی برآمد میں اضافے کے لئے مراعات پر مشتمل نئی آٹوموبائل پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے۔ پاکستان سے ٹریکٹر اور موٹرسائیکل بالخصوص برقی موٹرسائیکل برآمد کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ نئی پالیسی کے بعض حصوں جیسا کہ ٹیکس اصلاحات پر عمل درآمد کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

وزیر صنعت و پیداوار نے کہا کہ کووڈ 19 کی عالمی وبا کے باعث معیشت کو پہنچنے والے نقصانات پر قابو پانے اور صنعتی اور تجارتی اداروں کی معاونت کے لئے گزشتہ ڈیرھ برس کے دوران 12 کھرب روپے معاشی بحالی پیکچ کے ذریعے فراہم کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت صنعت میکرو اکنامک اور ریگولیٹری امور کو بہتر بنانے، مالیاتی وسائل تک رسائی بڑھانے، مہارتوں اور انسانی وسائل کی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، جدید کاروبار کے طریقوں کے فروغ، مقامی و بین الاقوامی مارکیٹس تک رسائی کو بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔

امریکن بزنس کونسل پاکستان کے نمائندگان نے سیاحت کو صنعت کا درجہ دینے، فوڈ سروسز کی صنعت کے طور پر ترقی کے لئے بڑے پیمانے پر درآمدات میں سہولیات کی فراہمی اور ایکسپورٹ پروسسنگ زونز کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے موبائل فون اسمبلنگ کرنے والی کمپنی ٹرانشین ٹیکنو الیکٹرانکس کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے کمپنی کے مختلف حصے دیکھے اور موبائل فون کی اسمبلنگ کے کام کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ موبائل فون انڈسٹری پاکستان کی اہم صنعت ہے اور وہ ملک کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہ انڈسٹری پاکستانی انجنیئرز، پروفیشنلز اور تربیت یافتہ ہنرمندوں کے لئے روزگار کے وسیع مواقع مہیا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اشیائے صرف اور ٹیلی کام کے شعبہ میں بڑے پیمانے پر غیرملکی کمپنیاں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ غذائی اشیا کی تیاری کے شعبہ کا زیادہ انحصار درآمد پر ہے کیونکہ انہیں خام مال اور پیکیجنگ سے متعلق اشیا باہر سے منگوانا پڑتی ہیں اور ان شعبوں کی تیز تر ترقی کے باعث ایکسٹرنل اکاﺅنٹ پر دباﺅ پڑتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق پالیسی میں برآمدی شعبوں اور ٹیکنالوجی پر مرکوز شعبوں اور بالخصوص ان شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جن میں مقامی صنعت کاروں کو سرمایہ کی کمی کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موبائل مینوفیکچرنگ پالیسی گزشتہ سال متعارف کرائی گئی تھی جس کا مقصد ملک میں موبائل فون کی تیاری اور اسمبلنگ تھی، جو ہدف ہم نے حاصل کر لیا ہے۔ رواں سال جنوری سے جولائی تک پاکستان نے 12.27 ملین سمارٹ فون مقامی سطح پر تیار کئے جبکہ اسی عرصے کے دوران 8.29 ملین موبائل فون درآمد کئے گئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here