مہنگائی کا طوفان نہ تھم سکا، ایک ہفتے میں 24 اشیاء مہنگی، عوام بلبلا اٹھے

پیاز 23.35 فیصد، ٹماٹر 20.38 فیصد، چکن 7.67 فیصد، آٹا 4.97 فیصد، انڈے 3.83 فیصد، دال مسور 2.04 فیصد، لہسن و آلو 1.34 فیصد، بناسپتی گھی 1.32 فیصد، کوکنگ آئل 1.22 فیصد اور بڑا گوشت 1.11 فیصد مہنگا ہو گیا

129

اسلام آباد: ملک میں مہنگائی رُکنے کا نام نہیں لے رہی اور گزشتہ ہفتہ میں مشترکہ آمدنی والے گروپ کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ (ایس پی آئی) میں 1.37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان بیورو برائے شماریات (پی بی ایس) کی جانب سے افراط زر سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 9 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتہ کو مشترکہ آمدن رکھنے والے گروپ کیلئے قیمتوں کا حساس اعشاریہ پیوستہ ہفتے کے 153.16 پوائنٹس کے مقابلے میں 2.1 پوائنٹ اضافے سے 155.26 پوائنٹس پر ریکارڈ کیا گیا۔

زیر جائزہ ہفتہ کے دوران مشترکہ آمدنی والے گروپ کیلئے قیمتوں کے حساس اعشاریہ میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 13.64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ کم از کم آمدن والے گروپ کیلئے قیمتوں کے حساس اعشاریہ میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا۔

پی بی ایس کے مطابق کم از کم آمدن رکھنے والے گروپ کیلئے قیمتوں کا حساس اعشاریہ پیوستہ ہفتے کے 165.18 پوائنٹس کے مقابلے میں 167.82 پوائنٹس پر ریکارڈ کیا گیا۔

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران روزمرہ استعمال کی 24 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، پانچ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 22 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ہفتہ رفتہ میں ایل پی جی کی قیمت میں 2.59 فیصد، چینی کی قیمت میں 0.28 فیصد، اری چاول 0.59 فیصد، دال مونگ 0.44 فیصد اور کیلے کی قیمت میں 3.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اس عرصہ کے دوران پیاز کی قیمت میں 23.35 فیصد، ٹماٹر 20.38 فیصد، چکن 7.67 فیصد، آٹا 4.97 فیصد، انڈے 3.83 فیصد، دال مسور 2.04 فیصد، لہسن و آلو 1.34 فیصد، بناسپتی گھی 1.32 فیصد، واشنگ سوپ 1.29 فیصد، 5 لٹر کوکنگ آئل 1.22 فیصد اور بڑے گوشت کی قیمت میں 1.11 فیصد اضافہ ہوا جس سے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں ہفتہ وار بنیادوں پر 1.37 فیصد کی نمو ہوئی۔

گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں گزشتہ ہفتہ میں آلو کی قیمت میں 26.32 فیصد، دال مونگ 25.24 فیصد اور ٹماٹرکی قیمت میں 6.68 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

قیمتوں کے حساس اعشاریہ کا تعین ملک کے 17 شہروں کی 50 بڑی مارکیٹوں میں روزمرہ استعمال کی 51 اشیا کی قیمتوں میں ردوبدل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here