ای سی سی: فوجی آئل ٹرمینل اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی کیلئے پانچ سالہ نظرثانی شدہ ٹیرف کی منظوری

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری کیلئے ٹینڈر جاری کرنے، خودکار طور پر ضائع ہونے والی سرنجز اور ان کی مقامی پیداوار کیلئے خام مال کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دینے کی منظوری بھی دے دی

169
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے فوجی آئل ٹرمینل اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی (فوٹکو) کیلئے پانچ سالہ نظرثانی شدہ ٹیرف کی منظوری دے دی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وزیر خزانہ شوکت ترین کی زیرصدارت وزارت خزانہ میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء سید فخر امام، شیخ رشید، محمد میاں سومرو، سید علی زیدی، اعظم سواتی، وزیر مملکت فرخ حبیب، معاون خصوصی تابش گوہر، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر، وفاقی سیکرٹریز، چئیرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

وزارت پٹرولیم کی جانب سے اجلاس میں فوجی آئل ٹرمینل اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی (فوٹکو) کیلئے ٹیرف پر نظرثانی سے متعلق سمری پیش کی گئی تاکہ کمپنی اپنے آپریٹنگ اور مرمت و بحالی کے اخراجات پورے کر سکے۔

سمری میں بتایا گیا کہ کمپنی کیلئے ٹیرف کی منظوری 2000ء میں 20 سالوں کیلئے دی گئی تھی اور اس پر نظرثانی نہیں کی گئی تھی۔ طویل گفت وشنید کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پانچ برسوں کیلئے نظرثانی شدہ ٹیرف کی منظوری دے دی جس کی ادائیگی مساوی پاکستانی روپوں میں کی جائے گی۔

اجلاس میں وزارت پٹرولیم، اوگرا، پی ایس او، میسرز اے ایف فرگوسن، وزارت بحری امور اور وزارت خزانہ کے نمائندوں پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بنائی گئی، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چئیرمین کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، کمیٹی 2012ء سے لے کر 2020ء تک کی مدت میں ٹیرف میں تفاوت سے متعلق امور کا فیصلہ کرے گی۔

ای سی سی کے اجلاس میں وزارت بحری امور کی جانب سے پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپویٹ گورننس) رولز کے تحت پاکستان نیشنل شیپنگ کارپویشن کی جانب سے 19 ذیلی کمپنیوں کو نرمی دینے سے متعلق سمری پیش کی گئی۔

ای سی سی نے نرمی کے قواعد میں جون 2021ء تک کی مدت کیلئے منظوری دے دی اور کارپوریٹ گورننس رولز کے اصولوں کے مطابق ان کمپنیوں کیلئے چیف ایگزیکٹو آفیسرز کی قیادت میں آزادانہ بورڈز کے قیام کی تجاویز دینے کی ہدایت کر دی۔

اجلاس میں وزارت قومی صحت کی جانب سے خودکار طریقہ سے ضائع ہونے والی سرنجز اور مقامی سطح پر ان سرنجز کی پیداوار کیلئے خام مال و مصنوعات کی درآمد پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں چھوٹ دینے سے متعلق سمری پیش کی گئی جسے منظور کر لیا گیا۔

چئیرمین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق نے ٹیکس چوری اور بعض اشیا پر قابل ادا ڈیوٹیز کی عدم ادائیگی کی ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے ذریعے روک تھام کیلئے اِن لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے اقدامات سے متعلق ایک سمری پیش کی۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اِن لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کے تحت سابق فاٹا و پاٹا کے اضلاع سے نکلنے والی اشیاء کی چیکنگ بھی ہو سکے گی، ای سی سی نے اس سمری کا جائزہ لینے کے بعد اس کی منظوری دے دی۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کے حصول کیلئے قواعدوضوابط کے اطلاق میں ایف بی آر ہراساں کئے جانے کی بجائے خیرسگالی کی فضا قائم کرے، اس کے ساتھ ساتھ ایف بی آر قومی خزانہ میں اضافہ کیلئے ٹیکس چوری کے خاتمہ اور ٹیکس کی بنیاد میں وسعت کیلئے اقدامات کرے، اس ضمن میں چیک اینڈ بیلنس کے باضابطہ نظام کی پیروی کی جائے۔

وزیرخزانہ نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس وصولی میں انفورسمنٹ کے روایتی طریقہ ہائے کار کی بجائے جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار اپنائے۔

اجلاس میں وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سفارش پر کابینہ کی ہدایت کے مطابق ملک میں جاری مالی سال کے دوران گندم کے سٹریٹجک ذخائر کے قیام کیلئے 40 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی ہدایت کی تعمیل کے ضمن میں ایک لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن گندم کی خریداری کیلئے ٹینڈر کی منظوری دی گئی۔

کمیٹی نے چئیرمین ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو گندم کی درآمد کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی تاکہ ملک بھر میں گندم کی فراہمی کا عمل رواں رہے۔ ای سی سی نے چئیرمین ٹی سی پی کو گندم کی درآمد کے نظام الاوقات اور دیگرتقاضوں کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here