پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس، نادرا کو ویکسین سرٹیفکیٹ کی فیس پر نظرثانی کی ہدایت

اگر 15 کروڑ عوام سرٹیفیکیٹ حاصل کریں تو رقم اربوں میں بنتی ہے، لوگوں کو ریلیف دینے کے لئے فیس پر نظرثانی کی جائے، نادرا کمرشل ادارہ نہیں بلکہ سروس پرووائیڈر ہے: چیئرمین پی اے سی  

300

اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو ہدایت کی ہے کہ لوگوں کو ریلیف دینے کے لئے ویکسین سرٹیفکیٹ کی 100 روپے فیس پر نظرثانی کی جائے۔

پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائوس میں پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزارت داخلہ اور اس کے ذیلی اداروں کے 20۔2019ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے آغاز میں چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ نادرا کے واجبات حکومتی اداروں کے ذمہ واجب الادا ہیں جس کی وجہ سے سارا ملبہ غریب آدمی پر گرتا ہے، نادرا ویکسین سرٹیفکیٹ کی فیس 100 روپے لی جا رہی ہے، اس کی قیمت 25 روپے ہونی چاہیے اور ویکسین کارڈ کے 350 روپے لئے جا رہے ہیں۔

اس پر چیئرمین نادرا طارق ملک نے جواب دیا کہ ویکسین سرٹیفیکیٹ بنانے کے لئے پورا سسٹم چلتا ہے اور نادرا بعض چیزوں کی لائسنسنگ فیس بھی ادا کرتا ہے، اس پر 100 روپے سے زیادہ خرچہ آتا ہے، نادرا پہلا شناختی کارڈ مفت دے رہا ہے، اگر حکومت رقم فراہم کرے تو ویکسین سرٹیفکیٹ کی قیمت بھی کم کرنے کے لئے تیار ہیں۔

طارق ملک نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں نادرا کی سربراہی دوبارہ سنبھالی ہے اور ادارے میں اصلاحات لا رہے ہیں، ’ہم مسائل ٹیکنالوجی کی نظر سے نہیں بلکہ عام آدمی کی نظر سے دیکھتے ہیں، ہم ایسی پالیسی بنا رہے ہیں کہ بیرون ملک منصوبوں سے کمائیں گے اور اپنے ہم وطنوں کو ریلیف دیں گے۔‘

رکن اسمبلی منزہ حسن نے کہا کہ کووڈ سرٹیفکیٹ کی مد میں 100 روپے فیس زیادہ نہیں ہے، شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ چیئرمین نادرا کو اس حوالے سے موقع ملنا چاہیے۔

چیئرمین پی اے سی رانا تنویر حسین نے کہا کہ اگر 15 کروڑ عوام یہ سرٹیفیکیٹ حاصل کریں تو یہ رقم اربوں میں بنتی ہے، لوگوں کو ریلیف دینے کے لئے نادرا ویکسین سرٹیفکیٹ کی فیس پر نظرثانی کرے کیونکہ نادرا کمرشل ادارہ نہیں یہ سروس پرووائیڈر ہے۔

نادرا کی طرف سے پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن کو 18 کروڑ 20 لاکھ روپے کی لاگت سے آر ٹی ایس سسٹم بنا کر دیا لیکن اس مد میں اب بھی 4 کروڑ 70 لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔

پی اے سی نے ہدایت کی کہ وزارت خزانہ کو کمیٹی کی طرف سے لکھا جائے کہ الیکشن کمیشن کے فنڈز میں سے رقم کاٹ کر نادرا کو دی جائے اور الیکشن کمیشن سے بھی کہا جائے کہ 4 کروڑ 70 لاکھ کی ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

پی اے سی نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ ڈی اے سی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کریں اور ریکوریز کے معاملات حل کئے جائیں۔

اجلاس میں کمیٹی کے ارکان ثنا اللہ مستی خیل، شیخ روحیل اصغر، سید حسین طارق، ڈاکٹر شہزاد وسیم ، سید نوید قمر، ریاض فتیانہ، منزہ حسن، محمد ابرہیم خان سمیت دیگر ارکان اور متعلقہ سرکاری اداروں کے افسران نے شرکت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here