پاکستانی کمپنی جلد ترکی اور آذربائیجان کیلئے زمینی راستے سے ٹرانسپورٹ آپریشن شروع کرے گی

ترکی تک سمندری راستے سے 48 دن کا سفر محض 8 دن میں طے ہو گا، معیشت پر مثبت اثرات کے ساتھ سمندر سے محروم ملکوں کو بین الااقوامی تجارت کیلئے پاکستانی بندرگاہوں تک مختصر راستہ بھی میسر آئے گی

1717

راولپنڈی: انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ یونین (آئی ٹی یو) نے نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) کو علاقائی ٹرانسپورٹ کے لئے ٹی آئی آر (TIR) آپریشن چلانے کی منظوری دے دی۔

ٹی آئی آر میں شمولیت سے بلا تاخیر سرحد پار نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ ٹی آئی آر میں عدم شمولیت پاکستان کے تجارتی عمل میں بہت بڑی رکاوٹ تھی جسے دور  کرنا بین الااقوامی تجارت کے فروغ میں ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔

این ایل سی نے ترکی اور آذر بائیجان کے لئے ٹی آئی آر آپریشن چلانے کی منصوبہ بندی کی ہے، اس پیش رفت کا مقصد علاقائی تجارت کو بڑھا کر پاکستان کے معاشی استحکام میں بطور قومی ذمہ داری مدد کرنا ہے۔

ٹی آئی آر سے خطے میں نئی منڈیوں تک کم لاگت میں رسائی سے پاکستان کی صنعتوں اور تاجر برادری کو نئے مواقع میسر آئیں گے۔ این ایل سی تاجر برادری کو رسد و ترسیل کی تمام خدمات فراہم کرے گا جو سمندری ذرائع کی نسبت کئی گناہ تیز تر ہوں گی۔

پاکستان سے ترکی میں سمندر کے ذریعے سامان پہنچانے میں عموماََ 27 سے 48 دن لگ جاتے ہیں جبکہ ٹی آئی آر کے ذریعے یہ وقت کم ہو کر 8 سے 10 دن تک آ جائے گا۔

ٹی آئی آر کے ضمن میں ابتدائی طور پر ترکی، آذر بائیجان اور ترکمانستان کے لئے ٹرانسپورٹ روابط قائم کئے جائیں گے جنہیں بعد ازاں خطے کے دیگر ممالک تک بڑھایا جائے گا۔

اس سے مذکورہ ملکوں کے ساتھ نہ صرف تجارت میں آسانی پیدا ہو گی بلکہ لاجسٹکس پرفارمانس انڈیکس میں پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کا موجب بھی ثابت ہو گا۔

ٹی آئی آر آپریشن کے اجراء سے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کو بھی فائدہ پہنچے گا جو ساحل سمندر سے محروم ہیں اور ان ملکوں کو بین الااقوامی تجارت کے لئے پاکستانی بندرگاہوں تک مختصر راستہ بھی میسر ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here