وبا کی وجہ سے ایشیا میں 80 ملین افراد ’انتہائی غربت‘ کا شکار ہو گئے

ایشیا و بحرالکاہل خطے کی مجموعی آبادی کا 5.2 فیصد یومیہ 1.90 ڈالر پر گزارا کرنے پر مجبور، 2017ء کے مقابلے میں 20 کروڑ 30 لاکھ افراد کو انتہائی غربت کا سامنا ہے، رپورٹ

315

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ کوویڈ-19 کی کی وجہ سے ایشیا و بحرالکاہل کے خطہ میں انتہائی غربت کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ وبا نے اقوام متحدہ کے اہداف کے حصول کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کورونا وبا کے باعث غربت میں اضافے کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ترقی پذیر ایشیائی ممالک میں کوویڈ-19 کی وبا کی وجہ سے گزشتہ سال اندازاََ 8 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو گئے ہیں، اگر وبا کی لہریں نہ آتیں تو شاید لوگ اتنی بڑی تعداد میں غربت کا شکار نہ ہوتے۔

رپورٹ کے مطابق وبا سے عدم مساوات اور انتہائی غربت میں اضافہ ہوا، رپورٹ میں 1.90 ڈالر یومیہ پر گزارہ کرنے والے افراد کو انتہائی غربت کی کیٹگری میں رکھا ہے۔

49 ممالک میں اقتصادی، مالیاتی، سماجی اور ماحولیاتی شعبوں کے کلیدی اشاریوں کے اعدادوشمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبا سے صحت اور تعلیم کے شعبے سب زیادہ متاثرہوئے ہیں اور ان شعبوں میں ترقی اور پیشرفت رُک گئی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق اس وقت ایشیا اور بحرالکاہل کے خطہ میں 2017ء کے مقابلہ میں 20 کروڑ 30 لاکھ افراد انتہائی غربت کا شکار ہیں جو ایشیا کی مجموعی آبادی کا 5.2 فیصد بنتے ہیں، اگر وبا کی صورت حال درپیش نہ ہوتی تو یہ تعداد مجموعی ایشیائی آبادی کا 2.6 فیصد ہوتی۔

اے ڈی بی کے چیف اکانومسٹ یاسویوکی ساوادا نے بتایا کہ ایشیا و بحرالکاہل کے خطہ نے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت دکھائی تاہم وبا نے ان سماجی اور اقتصادی کمزوریوں کو عیاں کر دیا جو جامع اور پائیدار ترقی کو کمزور کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے ہزاریہ اہداف کے حصول کیلئے معاشی بحالی کے عمل میں تیزی لانا ہو گی اور مصدقہ اعدادوشمار کی بنیاد پر اقدامات کرنا ہوں گے، بحالی کے عمل میں معاشرے کے غریب اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو خصوصی ترجیح دینا ہو گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here