پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے تین سالوں میں 480 ارب روپے کی ریکوریاں کر لیں

سابق وزیراعظم کے حکم پر سرکاری ملازمین کے علاوہ صحافیوں، ڈاکٹروں اور وکلاء کو بھی پلاٹ الاٹ ہوئے، اب اس معاملے پر مکمل پابندی ہے، سیکریٹری ہائوسنگ کی پی اے سی کے اجلاس میں بریفنگ

226

اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تین سالوں کے دوران 480 ارب روپے کی ریکوریاں کر لیں۔

پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے بتایا کہ موجودہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی جولائی 2018ء کے الیکشن کے بعد وجود میں آئی اور اب تک یہ کمیٹی مختلف محکموں اور وزارتوں سے مجموعی طور پر 480 ارب روپے ریکور کرکے قومی خزانے میں جمع کروا چکی ہے، یہ انتہائی تسلی بخش کارکردگی ہے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) 20 سال سے کام کر رہا ہے لیکن اب تک اس کی مجموعی ریکوری 520 ارب روپے کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے تمام ریکوریاں ہاﺅسنگ سوسائٹیوں اور ڈبل شاہ جیسے بڑے بڑے سکینڈلز میں ملوث افراد سے کی ہیں جبکہ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں میں مالی بے ضابطگیاں کرنے والوں سے پیسہ واپس لیا ہے۔

اجلاس میں وزارت ہاﺅسنگ کے 20۔2019ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ فاﺅنڈیشن کے آڈٹ اعتراضات کے جائزہ کے دوران آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایا کہ وفاقی سرکاری ملازمین کے علاوہ بھی پلاٹ الاٹ کئے گئے ہیں، اس سلسلے کو رکنا چاہیے۔

سیکرٹری ہاﺅسنگ نے کہا کہ سابق وزیراعظم کے حکم کے تحت سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ صحافیوں، ڈاکٹروں اور وکلاء کا کوٹہ مختص کیا گیا، اب یہ فیصلہ ہوا ہے کہ صرف وفاقی سرکاری ملازمین کو ہی کوٹہ دیا جائے گا۔

چیئرمین رانا تنویر حسین نے کہا کہ یہ بہت غلط کام ہوا ہے، اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔ سیکرٹری ہائوسنگ نے نے کہا کہ اب اس معاملے پر مکمل پابندی ہے، اب وفاقی سرکاری ملازم کے علاوہ کسی اور کو پلاٹ الاٹ نہیں ہو سکتا، پہلے بھی یہ کام وزیراعظم کے حکم اور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ہوا ہے۔

مشاہد حسین سید نے کہا کہ جن صحافیوں کو پلاٹ مل چکے ہیں ان سے واپس نہیں لیے جا سکتے، اس پر پی اے سی نے آئندہ کیلئے وفاقی ملازمین کے علاوہ پلاٹ الاٹ کرنے کے سلسلے کو روکنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here