برآمدکنندگان کے ریفنڈز اور کیش کے مسائل فوری حل کرنے کیلئے کمیٹی قائم

ایف بی آر صوبائی حکومتوں کی تصدیق والے ریفنڈز کو مستقبل کی ایڈجسٹمنٹ سے مشروط کرکے عبوری بنیادوں پر دینے کیلئے اقدامات کرے، وزیر خزانہ شوکت ترین کی ہدایت

158
اسلام آباد: برآمدکنندگان کے وفد کی وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین سے ملاقات، مشیر تجارت رزاق دائود، وزیر خوراک فخر امام بھی موجود ہیں (تصویر: پی آئی ڈی)

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے تجارتی خسارہ میں کمی کیلئے برآمدات میں اضافہ پر زور دیتے ہوئے اس ضمن میں جامع طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزارت خزانہ میں برآمدکنندگان کے وفد نے وزیر خزانہ شوکت ترین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار، وزیر خوراک فخر امام، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد، معاون خصوصی محصولات ڈاکٹر وقار مسعود، گورنر سٹیٹ رضا باقر، چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد، سیکرٹری پٹرولیم، سیکرٹری تجارت اور دیگر اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

سیشن کی صدارت وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق داﺅد نے کی۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے تناظر میں مشکل صورت حال کے دوران برآمدات میں نمایاں اضافہ پر برآمد کنندگان کی کاوشوں کو سراہا اور وفد کو کیش سے متعلق مسائل کے حل کیلئے مکمل معاونت کا یقین دلایا۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے تجارتی خسارہ میں کمی کیلئے برآمدات میں اضافہ اور اس ضمن میں جامع طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ سے متعلق دیرینہ مسائل کو خوش اسلوبی اور تمام فریقوں کیلئے یکساں فائدے کے حامل حل کی ضرورت اور پائیدار بڑھوتری کیلئے برآمدات میں اضافہ کیلئے اقدامات پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کووڈ۔19 کی عالمگیر وبا کے موقع پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بروقت معاونت فراہم کرنے پر وزارت تجارت، وزارت صنعت و پیداوار اور سٹیٹ بینک کے کردار کی تعریف کی۔

ملک میں توانائی کی موجودہ ضروریات سے متعلق سوالات پر وزیر خزانہ نے بجلی کی زیادہ طلب والے اوقات میں متبادل ایندھن کے آپشن کو بروئے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے متعلقہ علاقوں میں یوٹیلٹی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ورکنگ گروپ کے قیام کی ہدایت بھی کی تاکہ حقیقی معنوں میں توانائی کی ضروریات پر قابو پایا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے برآمد کنندگان کو ریفنڈز کی فوری ادائیگی کا بھی یقین دلایا۔ انہوں نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں کی تصدیق والے ریفنڈز کو مستقبل کی ایڈجسٹمنٹ سے مشروط کرکے عبوری بنیادوں پر دینے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

شوکت ترین نے اس سلسلہ میں وزارت تجارت، ایف بی آر اور سٹیٹ بینک کے نمائندوں پر مشتمل ذیلی کمیٹی بھی قائم کر دی جو ان معاملات کو فوری طور پر حل کرے گی۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد برآمد کنندگان کو بروقت ادائیگی کو ممکن بنانا ہے تاکہ انہیں کیش کے مسئلہ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت برآمد کنندگان کی مسلسل حمایت اور معاونت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے برآمد کنندگان کو برآمدات میں اضافہ اور برآمدی شعبہ کو درپیش مسائل کے حل کیلئے جامع تجاویز اور سفارشات مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ برآمد کنندگان کے ساتھ اس طرح کی میٹنگز باقاعدہ بنیادوں پر منعقد ہوں گی۔ برآمد کنندگان کے وفد نے کیش سے متعلق مسائل کے حل پر حکومتی معاونت کا شکریہ ادا کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here