چائنا ٹیلی کام کی شنگھائی سٹاک میں متوقع آئی پی او سے 8.4 ارب ڈالر آمدن کا امکان

326

بیجنگ: چین کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ’چائنا ٹیلی کام‘ کو شنگھائی سٹاک مارکیٹ میں اپنے شیئرز کی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) سے 8.4 ارب ڈالر آمدن کی توقع ہے، یہ رواں سال کی اب تک کی سب سے بڑی آئی پی او ہو گی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے نے چائنا ٹیلی کام کے حوالے سے بتایا کہ 6 اگست کو شنگھائی سٹاک میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق شئیرز کے نرخ 4.53 یوان فی شیئر کے حساب سے پیش کیے جا رہے ہیں جن سے 47.1 ارب یوان یعنی 7.3 ارب ڈالر آمدنی ہو گی۔

لیکن اگر زیادہ شیئرز کی پبلک آفرنگ کا آپشن استعمال کیا گیا تو آمدنی بڑھ کر 54 ارب یوان یعنی 8.4 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

دوسری جانب چین میں فیکٹری کی سطح پر افراط زر کی شرح میں جولائی کے دوران خلاف توقع سالانہ بنیاد پر 9 فیصد اضافہ ہوا ہے، اس کی وجہ کورونا وائرس کے ڈیلٹا ویریئنٹ کی شدت میں اضافہ ہے۔

چین کے محکمہ شماریات کے مطابق کورونا کی ڈیلٹا قسم کے تیز پھیلاﺅ سے خریداری میں اضافے اور دیگر وجوہات کی بناء پر جولائی کے دوران فیکٹری کی سطح پر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی شرح سالانہ بنیاد پر 9 فیصد رہی۔

محکمہ شماریات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے متوقع حکومتی لاک ڈاﺅ ن سے مصنوعات کی ترسیل متاثر ہونے سے ملک میں افراط زر کی شرح میں تیزی آ سکتی ہے۔

جولائی 2021ء کے دوران پروڈیوسر پرائس انڈیکس یعنی پی پی آئی میں سالانہ بنیاد پر 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری جانب جولائی میں ہی کنزیومر انفلیشن کم ہو کر ایک فیصد رہی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here