بینکوں کے ڈپازٹس گزشتہ 14 سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور ترسیلات زر میں اضافے کی وجہ سے جولائی 2020ء سے جون 2021ء تک کے دوران ملکی بینکوں کے  ڈیپازٹس 22 فیصد اضافہ سے 19 کھرب 80 ارب روپے تک پہنچ گئے،  ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ

208

اسلام آباد: گزشتہ مالی سال 2020-21ء کے دوران بینک ڈیپازٹس کا حجم 19.8 کھرب روپے تک بڑھ گیا۔

ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2020ء سے لے کر جون 2021ء تک کے دوران ملکی بینکوں کے  ڈیپازٹس میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گی اور مالی سال کے اختتام پر ڈیپازٹس کا مجموعی حجم  19 کھرب 80 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

واضح رہے کہ مالی سال 2020-21ء کے دوران بینک ڈیپازٹس میں ہونے والی بڑھوتری گزشتہ  14 سالوں میں سب سے زیادہ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2019-20ء کے اختتام پر بینک ڈیپازٹس کا حجم 16 کھرب 20 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا تاہم 30 جون 2021ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اختتام پر بینک ڈیپازٹس کا حجم 19.8 کھرب روپے تک بڑھ گیا ۔

اس طرح مالی سال 2019-20ء کے مقابلہ میں مالی سال 2020-21ء کے دوران بینک ڈیپازٹس کے حجم میں 3 کھرب 60 ارب روپے یعنی 22 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور ترسیلات زر کی وصولیوں میں اضافہ کے نتیجہ میں ڈیپازٹس کی بڑھوتری میں مدد ملی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ مالی سال میں قومی معیشت کی شرح نمو تقریباََ 4 فیصد رہی جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی ترسیلات زر کا حجم ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 29.4 ارب ڈالر یعنی 4.6 کھرب روپے کے مساوی رہا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here