پاکستان کو ویکسین خریدنے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 500 ملین ڈالر قرض مل گیا

500 ملین ڈالر سے سستے ترین نرخ پر ویکسین خریدی جائے گی، قرض کی رقم 25 سال میں واپس کی جائے گی جس میں پانچ سالہ رعایتی مدت بھی شامل ہے، اقتصادی امور ڈویژن

204

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) پاکستان کو کورونا وائرس سے بچائو کی ویکسین خریدنے کیلئے 500 ملین ڈالر کا قرض دے گا۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے ایشیا و بحرالکاہل کے خطے میں ویکسین کی دستیابی کے منصوبہ کے تحت پاکستان کے لئے پانچ سو ملین ڈالر کی فنانسنگ کے معاہدہ پر گزشتہ روز دستخط کیے گئے۔

اے ڈی بی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 500 ملین ڈالر قرض کی منظوری دی جس کے صرف تین گھنٹے بعد فاسٹ ٹریک کی بنیاد پر معاہدہ پر پاکستان کی اقتصادی امور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکرٹری ذوالفقار حیدر اور اے ڈی بی کی طرف سے قائم مقام کنٹری ڈائریکٹر کلیو کاواواکی نے دستخط کر دیے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے کووڈ ویکسین کی خریداری کے ضمن میں 500 ملین ڈالر کی فراہمی حکومت کی جانب سے عوام کو وبا سے تحفظ فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی ہے۔

وفاقی وزیر نے اے ڈی بی کی انتظامیہ اور بورڈ کی جانب سے مشکل وقت میں پاکستان کی معاونت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ ۔19 کی وجہ سے ملک کو صحت، سماجی اور معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ حکومت ویکسین کی بروقت خریداری کے لئے پرعزم ہے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے پھیلائو کو روکنے اور عوام کی مالی معاونت کے حوالہ سے وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت پاکستان کے اقدامات کو عالمی برادری نے سراہا ہے۔

اقتصادی امور ڈویژن سے جاری بیان کے مطابق فنانسنگ کی اس سہولت سے ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 500 ملین ڈالر کی فراہمی سے سستے ترین نرخ پر ویکسین خریدی جائے گی اور اس قرض کی واپسی پانچ سالہ رعایتی مدت سمیت مجموعی طور پر 25 سال میں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اے ڈی بی کی معاونت سے وزارت قومی صحت کی استعداد کار اور کووڈ۔19 کی ویکسین کی مہم میں بہتری لائی جا سکے گی۔ دونوں شعبوں میں پراجیکٹ مینجمنٹ، سپلائی چین، خریداری، صنفی مساوات، کارکردگی کے فروغ اور ہسپتالوں کے فضلہ کو ٹھکانے لگانے سمیت مختلف شعبوں میں استعداد میں اضافہ کیا جا سکے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here