حکومت نے کپاس کی کم از کم امدادی قیمت کا اعلان کر دیا

مالی سال 2021ء میں زرعی قرضوں کی فراہمی 1080.0 ارب روپے سے بڑھا کر 1191.6 ارب روپے کر دی گئی ہے، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام

391

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے کپاس کی کم از کم امدادی قیمت پانچ روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اجلا کے دوران کابینہ کو بتایا گیا کہ کاٹن کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے، حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں دس لاکھ بیلز کا اضافہ ہو گا۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ کابینہ نے کاٹن کی کم سے کم امدادی قیمت مقرر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، موجودہ حکومت نے کپاس کی پیداوار پر بھرپور توجہ مرکز کی ہے، خریف کی فصلوں پر پیشرفت کے بارے میں خود اور سیکرٹری بھی صوبوں سے رابطے میں ہیں۔

قومی اسمبلی میں راﺅ محمد اجمل اور دیگر کے پاکستان میں گندم، کپاس، گنا اور چاول کی فی ایکڑ پیداوار سے متعلق توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب میں وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق فخر امام نے کہا کہ تینوں فصلوں میں پاکستان کی تاریخ کی ریکارڈ پیداوار ہوئی۔ کپاس کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، اس لیے جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت ہے، ہم نے سیڈ اور پلانٹ بریڈر ایکٹ 18 سال بعد بنائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک سسٹم کو 11 سال لگتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے کام بہتر کریں، ہم کم سے کم امدادی قیمت نہیں دے سکتے تھے۔ کابینہ نے اب کاٹن کی کم سے کم امدادی قیمت مقرر کر دی ہے۔

قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران رکن اسمبلی شمس النسا کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر فخر امام نے کہا کہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 1400 سے بڑھا کر 1800 روپے فی من کر دی ہے، رواں سال فصلوں کی بمپر پیداوار ہوئی۔ گندم کی 27.5 ملین ٹن، مکئی 8.4 ملین ٹن اور چاول 8.4 ملین ٹن ریکارڈ پیداوار ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ قومی زرعی ایمرجنسی پروگرام عمل درآمد کے مراحل میں ہے۔ کپاس اور چاول کی پیداوار بڑھانے کے لئے صوبوں میں شراکتی بنیاد پر کھادوں پر خریف 2021ء کے لئے 19.158 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے گزشتہ سال سبسڈی ریٹ پر گندم فراہم کی۔ اس بار پیداوار زیادہ ہوئی ہے اس لئے اس طرح کی سبسڈی نہیں دی گئی۔

وزیر خواراک نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔ جب ہم نے گندم امپورٹ کی تو اس وقت عالمی منڈی میں ریٹ زیادہ تھا۔ گزشتہ سال 3.6 ملین ٹن گندم امپورٹ کی گئی جس کی وجہ سے ملک میں گندم کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔

سید فخر امام نے کہا کہ مالی سال 2021ء میں زرعی قرض کی فراہمی 1080.0 ارب روپے سے بڑھا کر 1191.6 ارب روپے کر دی گئی ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے مختلف پالیسی ، انتظامی و امدادی اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکومتی کاوشوں کی وجہ سے معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے میکرو اکنامک عدم توازن کو درست سمت میں لانے اور پائیدار نمو کے حصول کے لئے پہلے سے ہی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، اس مقصد کے لئے معیشت کے تمام شعبوں میں معاشی اصلاحات کا ایک جامع پروگرام متعارف کروایا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here