داسو بس حادثہ میں چینی شہریوں کی ہلاکت، وزیراعظم کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانی

عمران خان کا وزیراعظم لی کے چیانگ کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ، چینی شہریوں کی ہلاکت پر تعزیت کا اظہار، چین سے تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد پہنچ گئی

151

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو چین کے وزیراعظم لی کے چیانگ کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو میں داسو میں ہونےوالے المناک حادثے میں چین کے شہریوں کے قیمتی جانی نقصان پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام سوگوار خاندانوں کے غم اور پریشانی میں برابر کے شریک ہیں۔ حکومت زخمی چینی باشندوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے یقین دلایا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، پاکستان میں مقیم چینی باشندوں اور مختلف منصوبوں اور اداروں میں کام کرنے والے کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر اعظم نے اس امر کااعادہ کیا کہ پاکستان اور چین گہرے دوست ہیں اور ہماری دوستی وقت کی ہر آزمائش میں پورا اتری ہے، مخالف قوتوں کو پاکستان اور چین کے برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب داسو میں چینی باشندوں کی بس کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے چین کی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد پہنچ گئی۔

نجی ٹی وی چینل نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ چین کی تحقیقاتی ٹیم آئندہ روز جائے وقوعہ کا دورہ کرے  جہاں انہیں پاکستانی سیکیورٹی حکام بریفنگ دیں گے۔

واضح رہے کہ 14 جولائی کو داسو میں بس کھائی میں گِرنے سے 9 چینی اور 3 پاکستانی شہری جاں بحق ہو گئے تھے جو داسو ڈیم کی سائٹ پر کام کیلئے جا رہے تھے۔

اس حوالے سے ابتدائی بیان میں   پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ اپر کوہستاک کے علاقہ داسو میں چینی ورکرز کو لے جانے والی بس کھائی میں گرنے سے تکنیکی خرابی پیدا ہوئی اور گیس لیکج کی وجہ سے دھماکا ہوگیا، اس حادثے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

تاہم اس حوالے سے 15 جولائی کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ داسو واقعے پر ابتدائی تحقیق نے دھماکا خیز مواد کی موجودگی کنفرم کی ہے، واقعے میں دہشت گردی کا پہلو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here