بچوں کو موبائل گیمز کھیلنے سے روکنے کیلئے “مڈ نائٹ پٹرول” ٹیکنالوجی متعارف

192

بیجنگ: آن لائن گیمز کے لیے مشہور چینی کمپنی ٹینسنٹ اب چہرے کی پہچان کا ایک ایسا نیا فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے جس کے ذریعے بچوں کو رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک کوئی بھی گیم کھیلنے سے روکا جا سکے گا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ‘مڈ نائٹ پٹرول’ نامی اس ٹیکنالوجی کی مدد سے حکومتی کرفیو سے بچنے والی ہر چال پکڑی جا سکے گی۔

حکومت نے یہ کرفیو 2019ء میں متعارف کرایا تھا جس میں نوجوان گیمرز کی جانب سے گیم میں رقم کی منتقلی کی ایک حد طے کی گئی تھی۔

ان پابندیوں کے تحت گیمرز کو اپنی اصل شناخت کے ذریعے خود کو گیم میں رجسٹرڈ کروانا ہوتا ہے، یہ معلومات پہلے سے قومی ڈیٹابیس میں موجود ہوتی ہیں۔ اب ان اقدامات کے بعد طویل دورانیے تک گیمرز کو اپنے چہرے کی پہچان کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بالغ ہیں۔

ٹینسنٹ نے 2018ء میں اس نظام کی آزمائش شروع کی مگر دنیا کی اس سب سے بڑی گیمنگ کمپنی کی جانب سے یہ ٹیکنالوجی 60 سے زیادہ گیمز میں دستیاب ہو گی۔ ٹینسنٹ کی اکثر مشہور گیمز جیسے ’آنر آف کنگز‘ یا ‘گیم فار پیس‘ موبائل فونز کے لیے بنائی گئی ہیں۔

کمپنی نے ان اقدامات کا اعلان چین کی میسجنگ ایپ کیو کیو پر جاری کیا جس میں اس فیچر کو ‘زیرو آور کروزنگ’ کہا گیا ہے۔ چینی نیوز ویب سائٹ سکستھ ٹون نے اس کا ترجمہ ‘مڈنائٹ پٹرول’ کیا ہے۔

واضح رہے کہ کسی کمپیوٹر یا گیمنگ کنسول کے برعکس موبائل کے کیمرے کے ذریعے چہرے کی پہچان کو زیادہ آسان سمجھا جاتا ہے۔ چین میں آن لائن خرید و فروخت اور بالغ افراد کے لیے بنائی گئی مصنوعات کے لیے کیمروں کے ذریعے صارفین کی عمر کی تصدیق پہلے ہی تجویز کی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here