بھارت کی ٹیرر فنانسنگ کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائیں گے: وزیر خارجہ

دنیا دہشتگردی کی مالی معاونت کی بیخ کنی چاہتی ہے تو جوہر ٹاؤن دھماکے کی تحقیقات میں سامنے آنے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر پاکستان بھی یہ توقع کر رہا ہے کہ دنیا بھارت ٹیرر فنانسنگ کا نوٹس لے گی، بیان

158

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت کی ٹیرر فنانسنگ کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائیں گے۔

سوموار کو بھارتی حکومت کے منفی عزائم اور علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات کے حوالے سے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر پالیسی بری طرح ناکام ہوئی، کشمیری قیادت بھارتی سرکار سے نالاں دکھائی دے رہی ہے۔ کشمیری رہنماؤں نے وزیراعظم مودی کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات میں 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غیر آئینی اقدامات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت کی ٹیرر فنانسنگ کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائیں گے، اس سے قبل بھی بھارت کی دہشت گردی کے واضح ثبوت ڈوزیئر کی صورت میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے پیش کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا دہشتگردی کی مالی معاونت کی بیخ کنی چاہتی ہے تو جوہر ٹاؤن لاہور میں دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات میں سامنے آنے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اب پاکستان یہ توقع کر رہا ہے کہ دنیا بھارت کی اس ٹیرر فنانسنگ کا نوٹس لے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم دہشت گردی کی روک تھام اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ہم نے مغربی سرحد پر باڑ لگائی ہے، اپنے قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا ہے، وہاں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا گیا ہے۔

افغان مہاجرین کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے خواہش مند ہیں، اس مقصد کیلئے ہمیں عالمی برادری کی مدد درکار ہو گی، افغان مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے ایک مقررہ مدت اور جامعیت کا حامل وافر وسائل والا منصوبہ تشکیل دیا جانا چاہیئے اور اسے افغان امن عمل کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے شہروں اور شہریوں کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا۔ اگر افغانستان میں اس منفی سوچ کے ساتھ بدامنی پھیلائی جاتی رہی کہ پاکستان ”ٹو فرنٹ‘‘ (دو سرحدوں پر کشیدگی کی) صورت حال میں الجھا رہے تو یہ عالمی مقاصد کے منافی ہو گا، دنیا کو اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here