ٹک ٹاک نے پاکستانی صارفین کی 64 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹا دیں

جنوری تا مارچ 2021ء کے دوران دنیا بھر میں کمیونٹی گائیڈلائنز کی خلاف ورزی پر 6 کروڑ 19 لاکھ 51 ہزار 327 ویڈیوز ہٹائیں، امریکا کے بعد پاکستان دوسرے نمبر پر رہا جہاں سب سے زیادہ ویڈیوز ہٹائی گئیں، سہ ماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ جاری

388

اسلام آباد: مختصر ویڈیوز کے پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے اپنی سہ ماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق پاکستان دنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ ہے جہاں کمیونٹی گائیڈ لائنز، سروس کے قواعد کی خلاف ورزی اور کورونا پر گمراہ کن معلومات پھیلانے والی سب سے زیادہ ویڈیوز ہٹائی گئیں۔

ٹک ٹاک کا اپنی سہ ماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں کہنا ہے کہ جنوری تا مارچ 2021ء کے عرصے میں دنیا بھر میں کمیونٹی گائیڈلائنز اور ٹرمز اور سروس کی خلاف ورزی پر چھ کروڑ 19 لاکھ 51 ہزار 327 ویڈیوز کو ٹک ٹاک ایپ سے ہٹایا گیا، یہ تعداد ایپ پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز کی مجموعی تعداد کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

ٹک ٹاک نے اِن وڈیوز میں سے 91.3 فیصد ویڈیوز استعمال کرنے والوں کی جانب سے رپورٹ کیے جانے سے قبل ہٹائیں جبکہ 81.8 فیصد ویڈیوز دیکھے جانے سے قبل ہٹائی گئیں اور 93.1 فیصد ویڈیوز کو پوسٹ کیے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹایا گیا۔

پاکستانی مارکیٹ میں ٹک ٹاک نے 64 لاکھ 95 ہزار 992 ویڈیوز بھی مختلف وجوہات کی بناء پر ہٹا دیں، اِس طرح پاکستان دوسری بڑی مارکیٹ بن گیا جہاں تین ماہ کے دوران امریکا کے بعد سب سے زیادہ ویڈیوز ہٹائی گئیں۔

جنوری سے مارچ کے دوران امریکا میں ٹک ٹاک نے 85 لاکھ 40 ہزار 88 ویڈیوز ڈیلیٹ کیں، یوں امریکا اس لحاظ سے پہلے نمبر پر جہاں ٹک ٹاک کی کمیونٹی گائیڈ لائنز، ٹرمز آف سروس کی سب سے زیادہ خلاف ورزی دیکھی گئی اور کورونا اور اس کی ویکسین کے بارے میں سب سے زیادہ گمراہ کن مواد ٹک ٹاک پر پوسٹ کیا گیا۔

ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ ایک ذمہ دار پلیٹ فارم ہونے کی حیثیت سے وہ عوامی صحت کے ماہرین کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں تاکہ کمیونٹی کو محفوظ رکھا جا سکے اور کورونا اور اِس کی ویکسین کے بارے میں درست معلومات فراہم ہوتی رہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2021ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران ٹک ٹاک پر کورونا کے انفارمیشن ہب کو  دنیا بھر میں ایک ارب 53 کروڑ 51 لاکھ 14 ہزار 921 مرتبہ دیکھا گیا، لوگوں کو ہب کی جانب راہنمائی کرنے والے بینرز 10 لاکھ سے زائد  ویڈیوز میں شامل کیے گئے جنہیں 11 ارب 84 کروڑ 65 لاکھ 66 ہزار 486 مرتبہ دیکھا گیا۔

ٹک ٹاک کے ریجنل پروڈکٹ پالیسی، ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ہیڈ برائے ایشیا پیسیفک جامِن تان کا کہنا ہے کہ ’ہم کورونا سے تعلق رکھنے والے پبلک سروس اعلانات اور ویکسین کے ہیش ٹیگ شامل کرتے رہے ہیں جن کا مقصر استعمال کنندگان کو عالمی ادارہ صحت اور صحت کے مقامی وسائل کی جانب راہنمائی کرنا تھا اِن اعلانات کو 19 ارب 66 کروڑ 5 لاکھ 17 ہزار 152  بار دیکھا گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ کرونا ویکسین کے بارے میں گمراہی پھیلانے والی 30 ہزار 624 ویڈیوز ہٹائی گئیں، اِن ویڈیوز میں سے 79.6 فیصد کو ہمیں رپورٹ کیے جانے سے پہلے ہٹایا گیا، 88.4 فیصد کو ٹک ٹاک پر اَپ لوڈ کیے جانے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ہٹایا گیا اور 61.2 فیصد کو 0 ویوز کے ساتھ ہٹایا گیا۔

جامِن تان کے مطابق قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کانٹنٹ کو خود بہ خود ہٹانے کی غرض سے ٹک ٹاک ٹیکنالوجی پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے، کانٹنٹ بنانے والوں کو بھی اس بات کا موقع فراہم کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ویڈیو ہٹائے جانے کے خلاف اپیل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اپیل موصول ہونے پر ویڈیو کا دوبارہ جائزہ لیا جاتا ہے اور اگر کسی پالیسی کی خلاف ورزی نہ ہو تو اسے بحال کر دیا جاتا ہے۔ گزشتہ سہ ماہی میں 28 لاکھ 33 ہزار 837 ویڈیوز کو اپیل کے بعد بحال کر دیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here