موبائل بنکنگ میں 30.5 فیصد، انٹرنیٹ بنکنگ میں 20.3 فیصد اضافہ

ای بینکنگ سے 22.5 کھرب روپے کا لین دین، جنوری تا مارچ 2021ء تک موبائل بینکنگ کے ذریعے ایک کھرب 30 ارب، انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے ایک کھرب 50 ارب روپے کا لین دین ہوا، ملک میں پیمنٹ کارڈز کی کل تعداد 4 کروڑ 45 لاکھ ہو گئی

334

کراچی: پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کرنے کے رجحان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے لیے ‘پیمنٹس سسٹم ریویو’ جاری کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 2020-21ء کی تیسری سہ ماہی میں ملک میں گزشتہ برس کے مقابلے میں موبائل فون بینکنگ میں 30.5 فیصد اور انٹرنیٹ بینکنگ میں 20.3 فیصد اضافہ ہوا۔

مرکزی بینک سے جاری اعلامیہ کے مطابق رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران صارفین نے ای بینکنگ کے ذریعے 22.5 کھرب روپے کے لین دین کیلئے 30 کروڑ 95 لاکھ ٹرانزیکشنز کیں جو گزشتہ  مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے مقابلے میں مالیت کے لحاظ سے 29 فیصد اور تعداد کے لحاظ سے 31 فیصد زیادہ ہیں۔

ای بینکنگ میں انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے ہونے والے لین دین کو دیکھا گیا، جنوری تا مارچ 2021ء تک موبائل بینکنگ ٹرانزیکشنز کا حجم 178 فیصد اضافے کے ساتھ ایک کھرب 30 ارب روپے رہا جبکہ 5 کروڑ 17 لاکھ (144 فیصد اضافی) ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں۔

گزشتہ مالی سال 2019-20ء کی تیسری سہ ماہی میں موبائل بینکنگ کی دو کروڑ 12 لاکھ ٹرانزیکشنز کے ذریعے 467 ارب 50 کروڑ روپے کا لین دین ہوا تھا۔

اسی طرح جنوری تا مارچ 2021ء کے دوران انٹرنیٹ بینکنگ کے ذریعے ایک کھرب 50 ارب روپے کے لین دین کیلئے دو کروڑ 45 لاکھ ٹرانزیکشنز کی گئیں جو گزشتہ مالی سال کی تیسری سہ ماہی میں انٹرنیٹ بینکنگ کی مالیت 75 ارب روپے سے 74 فیصد اور ٹرانزیکشنز کی تعداد سے 109 فیصد زیادہ ہے۔

ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز کے ذریعے ادائیگیوں میں سہولت دینے کیلئے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں کی تعداد میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان مشینوں کے ذریعے 124 ارب روپے مالیت کی کارڈ پر مبنی اڑھائی کروڑ ٹرانزیکشنز کی گئیں جو گزشتہ برس کی کے مقابلے میں حجم کے لحاظ سے 28 فیصد اور مالیت کے لحاظ سے 21 فیصد زیادہ ہیں۔

رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں ای کامرس سے وابستہ تاجروں نے 15.3 ارب روپے مالیت کی 56 لاکھ ٹرانزیکشنز کیں جبکہ گزشتہ سال کی تیسری سہ ماہی میں 7 ارب 10 کروڑ روپے مالیت کی 28 لاکھ ٹرانزیکشنز پروسس کی گئیں تھیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں حجم میں 100 فیصد اور مالیت میں 115 فیصد زیادہ ہیں۔

ملک میں جاری ہونے والے پیمنٹ کارڈز کی کل تعداد 4 کروڑ 45 لاکھ ہے جس میں سے دو کروڑ 86 لاکھ ڈیبٹ کارڈز اور 17 لاکھ کریڈٹ کارڈز ہیں۔ مزید یہ کہ سماجی بہبود کے حوالے سے بینکوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، ای او بی آئی، احساس پروگرام اور دیگر سرکاری اداروں اور سکیموں کے لیے 64 لاکھ کارڈز جاری کیے ہیں۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جو سٹیٹ بینک کی صارفین کو مراعات دینے کی غرض سے موافق پالیسیوں کا عکاس ہے۔ ادائیگیوں کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والے نئے اداروں نے بھی اس نمو میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here